کیا امام اعظم رضی اللہ عنہ کی کوئی تصنیف نہیں ؟؟؟

 

کیا امام اعظم رضی اللہ عنہ  کی کوئی تصنیف نہیں؟

مولانا ابو اسامہ محمد ظفر القادری

امام الائمہ ،سراج الامہ ،کاشف الغمہ،سرتاج المحدثین ،رئیس الفقہاء،حاکم الحفاظ فی الحدیث امام اعظم امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت ﷛ تمام علما ومجتہدین کے سردار ،ماہرین حدیث کے امام ،عابدین وزاہدین کے سردار اور تمام خوبیوں کے جامع ،جو ایک بہترین انسان ، بہترین محاسن اور فضائل کے حامل تھے اپنے وقت کے عالم تھے جو کہ نہ صرف فقہ بلکہ حدیث ،تفسیر ،لغت اور دیگر تمام رائج علوم وفنون کے ماہر تھےامام اعظم نے دین کا علم سیکھا اور مسائل کو قرآن وحدیث سے ڈھونڈا اور قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہ اور اس کے اصول وضوابط ،نیز حدیث وتفسیر کے ضوابط وضع کیے اور ان کے مطابق مسائل کوبیان کیا اور فقہی مسائل کو قرآن و سنت کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی اور اپنے شاگردوں میں بھی یہی صلاحیتیں پیدا کیں اور فقہ کے عنوان سے اسلامی قوانین کا ایسا مجموعہ تیار کیا جس نے بعد میں آنے والوں کے لیے قرآن وسنت پر عمل کرنا آسان کردیا ۔ احناف کے لاکھوں مسائل کا ایک ایک جزیہ شاہد ہے کہ احناف کتاب اللہ اور سنت رسول تو بہت بعید ہے خبر واحد اور حدیث ضعیف پر بھی عمل کرتے ہیں۔ امام اعظم نے اسلامی دفعات کا جو مجموعہ تیار کیا اس میں تقریباً11,83,000 مسائل کا حل لکھا۔ (عنایہ شرح ہدایہ : 1/7 خطبۃ الکتاب)
عام طور پر تالیف یا تصنیف ،لوگ اسے ہی قرار دیتے ہیں جو مؤلف یا مصنف نے اپنے ہاتھوں سے لکھی ہو حالاں کہ یہ خیال درست نہیں کیوں کہ اگر کسی کی تقاریر یادرس کو سن کر کوئی دوسرا آدمی لکھے تو یہ اسی مقرر یا مدرس کی ہی تالیف کہلائے گی، پھر دور سابق میں تصنیف کا وہ طریقہ نہ تھا جو آج ہے بلکہ اس دور میں محدثین اپنی تحقیقات املا کرواتے تھے۔ ظاہر ہے کہ املاکرانے والاشخص جو کچھ لکھوائے گا وہ اسی کی تالیف کہلائے گی اور اس بات کا اعتبار نہ کیا جائے تو بہت سار ی کتب کا انتساب ان کے مصنفین یا مؤلفین کی طرف غلط قرار پائے گا مثلاًموطاء امام مالک،صحیفہ ہمام بن منبہ،مصنف عبدالرزاق ،مسند شافعی ،مسنداحمد ،فتح الباری شرح بخاری وغیرہ یہ سب املا کروائی گئیں ،امام ابوحنیفہ﷛کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہےکہ انہوں نے متعدد کتب تصنیف فرمائی ہیں مگر کچھ کم فہم قسم کے لوگ یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ ان کی کوئی کتاب نہیں اور اگر کوئی دلیل پیش کریں تو اس کی سند مانگتے ہیں اور سند پیش کردی جائے تو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اس میں فلاں راوی ضعیف ہےآپ نے فقہ کے علاوہ علم الکلام کے موضوع پر متعدد کتب تصنیف فرمائیں جن میں ان فرقوں کے مقابلے میں اہل سنت وجماعت کے موقف کو واضح فرمایا۔ اور یہ بات کہ امام اعظم﷛ کی کوئی کتاب نہیں معتزلہ کی اڑائی بات ہے ۔
چناں چہ عبدالقادر قرشی فرماتے ہیں:
هَذَا كَلَام الْمُعْتَزلَة ودعواهم أَنه لَيْسَ لَهُ فى علم الْكَلَام تصنيف
ترجمہ:یہ معتزلہ کی بات ہے اور ان کا دعوٰی ہے کہ امام اعظم کی علم کلام کی کوئی کتاب نہیں ہے (الجواہر المضیہ:2/461)
اس کی وجہ یہ تھی کہ معتزلہ یہ چاہتے تھے کہ اس قسم کی افواہوں سے امام اعظم﷛ کو اپنے مزعوعات کے لیے استعمال کر سکیں ۔
(1)علامہ بیاضی نے اشارات المرام میں علم کلام کے موضوع پر امام اعظم﷛ کی جن تصانیف کی نشاندہی کی ہے وہ یہ ہیں لکھتے ہیں
إملاءها علٰی أصحابه من الفقه الأکبر و الرسالة و الفقه الأبسط و کتاب العالم و المتعلم و الوصية.
ترجمہ: امام اعظم نے اپنے اصحاب سے یہ کتاب املاء کروائیں:(1)الفقہ الاکبر(2)الرسالہ(3)الفقہ الابسط(4)کتا ب العالم والمتعلم(5)اورالوصیہ۔ (اشارات المرام:ص21)
(2)صاعد بن محمدبن احمد استوائی النیسابوری نے بھی اپنی کتاب[الاعتقاد]میں انہی 5؍کتب کی نشاندہی کی ہے جن کا دور 343ہجری سے 432ہجری کا ہے، لکھتے ہیں:
رسائل الإمام أبي حنيفة الخمس، وهي :(1) الفقه الأکبر (2) الفقه الأبسط (3) العالم و المتعلم (4) الوصية (5) الرسالة. (الاعتقادالنیسابوری:ص 85،86)
(3)اسی طرح محمد بن عبدالرحمٰن الخمیس نے اپنی کتاب[اصول الدین عند الامام ابی حنیفۃ] میں ان پانچ کتب کی نسبت امام ابو حنیفہ ﷛ کی طرف کرتے ہوئے ان کے راویوں کی بھی نشاندہی کی ہے، لکھتے ہیں:
ينسب إلى الإمام أبي حنيفة الكتب التالية:
1- الفقه الأكبر برواية حماد بن أبي حنيفة.
2- الفقه الأكبر برواية أبي مطيع البلخي، ويسمى بالفقه الأبسط.
3- العالم والمتعلم برواية أبي مقاتل السمرقندي.
4- رسالة الإمام أبي حنيفة إلى عثمان البتي برواية أبي يوسف.
5- الوصية برواية أبي يوسف. (اصول الدین عند الامام ابی حنیفۃ:ص115مطبوعہ سعودی عرب)
اسی طرح انہوں نے فقہ اکبر اور فقہ الابسط دونوں کی شرح بھی فرمائی ہے جس کانام یہ ہے
الشرح الميسر على الفقهين الأبسط والاكبر المنسوبين لأبي حنيفة
جس میں انہوں نےفقہ الابسط کی سند لکھی ہے۔ وہ یہ ہے:
روى الإمام أبو بكر بن محمد الكاساني عن أبي بكر علاء الدين محمد بن احمد السمرقندي قال أخبرنا أبو المعين ميمون بن محمد بن مكحول النسفي أخبرنا عبد الله الحسين بن على الكاشغري الملقب بالفضل قال أخبرنا ابو مالك نصران بن نصر الختلي عن علي بن الحسن بن محمد الغزال عن أبي الحسن علي بن أحمد الفارسي حدثنا نصير بن يحيى الفقيه قال سمعت أبا مطيع الحكم بن عبد الله البلخي يقول.( الشرح الميسر علی الفقہين الأبسط والاکبر المنسوبين لأبی حنيفۃ:ص76)
(4)علامہ بزازی لکھتے ہیں :
یہ قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے کہ علم کلام میں امام ابو حنیفہ کی کوئی تصنیف نہیں ہے الفقہ الاکبر اور العالم والمتعلم میں نے خود علامہ شمس الدین کی ارقام فرمودہ دیکھی ہیں۔ ان پر لکھا ہواتھا کہ یہ امام اعظم کی تصانیف ہیں۔ (مناقب کردری:1/108)
(5)علامہ علی بن محمد البزدوی الحنفی لکھتے ہیں:
وقد صنف أبو حنيفة رضي الله عنه في ذلك كتاب الفقه الأكبر ۔۔۔۔۔ وصنف كتاب العالم والمتعلم وكتاب الرسالة.
ترجمہ:اورتحقیق امام ابو حنیفہ ﷛نے فقہ الاکبر تصنیف کی اورکتاب العالم والمتعلم اور کتاب الرسالہ تصنیف کی۔ (اصول البزدوی:ص3)


(6)علامہ زاہد الکوثری لکھتے ہیں:
علم کلام میں امام اعظم ﷛کا یہ علمی سرمایہ امت کو وراثت میں ملا ہے [الفقہ الاکبر ] اس کی سند یہ ہے: علی بن احمد الفارسی عن نصیر بن یحییٰ عن ابی مقاتل عن عصام بن یوسف عن حماد بن ابی حنیفة.[الفقہ الابسط]اس کی سند یہ ہے:ابو زکریا یحییٰ بن مطرف عن نصیر بن یحییٰ عن ابی مطیع البلخی عن ابی حنیفة.[العالم والمتعلم]اس کی سند یہ ہے: الحافظ احمد بن علی عن حاتم بن عقیل عن الفتح بن ابی علوان ومحمد بن یزید عن الحسن بن صالح عن ابی مقاتل عن ابی حنیفة. [الرسالۃ]اس کی سند یہ ہے:نصیر بن یحییٰ عن محمد بن سماعة عن ابی یوسف عن ابی حنیفة. (الوصیۃ)اس کی سند کا سلسلہ بھی یہی ہے۔ (مقدمہ اشارات زاہد الکوثری:ص5)
الفقہ الابسط کے راوی ابو مطیع بلخی کی توثیق پیش خدمت ہے تاکہ کوئی وسوسہ ڈالنے والاآپ کے دل میں شک نہ ڈال سکے :
تعارف الحکم بن عبداللہ ابو مطیع بلخی:
(1) صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی متوفی:764ھ لکھتے ہیں:
الحكم بن عبد الله أبو مطيع البلخيّ الفقيه، صاحب كتاب الفقه الأكبر. تفقَّه بأبي حنيفة، وولي قضاء بلخ. وكان بصيراً بالرأي، وكان ابن المبارك يعظِّمه.
ترجمہ:الحکم بن عبداللہ ابو مطیع بلخی فقیہ فقہ اکبر کے راوی، امام ابو حنیفہ﷛سے فقہ حاصل کیا اور بلخ کے قاضی اور اہل الرائے میں بصیرت والے تھے۔ (الوافی بالوفیات:4/307)
(2)حضرت عبد اللہ بن مبارک﷛ فرماتے ہیں:
أَبُو مطيع له المنة على جميع أَهْل الدنيا.
ترجمہ: ابو مطيع کا ساری دنیا کے لوگوں پر بہت احسان ہے۔(تاریخ بغداد:8/220 ،تاریخ الاسلام للذہبی:13/159)
(3)علامہ خطیب بغدادی﷛فرماتے ہیں:
وكان فقيها بصيرا بالرأي:وكان يصيرا بالرأى علامة كبير الشأن.
ترجمہ:آپ فقہا میں سےتھے اور اہل بصیرت میں بڑے صاحب بصیرت تھے۔(تاریخ بغداد ت بشار:1/121،میزان الاعتدال:1/574رقم2181)
(4) علامہ ذہبی﷛ اور ابن حجر عسقلانی﷛ فرماتے ہیں:
وكان ابن المبارك يعظمه ويجله لدينه وعلمه.
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن مبارک ان کےدین اور علم کی وجہ سے ان کی تعظیم اور بڑائی کے قائل تھے۔(لسان المیزان ج2 ص334 ،میزان الاعتدال:1/574رقم2181)
(5)علامہ ابن حجر عسقلانی﷛ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
وكان بصيرا بالرأي علامة كبير الشان.
ترجمہ:اہل رائے میں آپ بڑے صاحب بصیرت تھے اور بڑی شان والے علامہ تھے۔(لسان المیزان ج 2 ص334 ، میزان الاعتدال:1/574رقم2181)
(6)حضرت امام مالک﷛ :
قال محمد بن فضيل وقال حاتم قال مالك بن أنس لرجل من أين أنت قال من بلخ قال قاضيكم أبو مطيع قام مقام الأنبياء.
حضرت امام مالک﷛نے کسی آدمی سے پوچھا کہاں سے آئے ہو اس نے جواب دیا بلخ سے آیا ہوں جس کے جواب میں امام مالک ﷛نے فرمایا:تمہارے قاضی ابو مطیع انبیاء کے قائم مقام ہیں۔(تاریخ بغداد:8/223 ،تاریخ الاسلام للذہبی:13/159)
(7)ابن عیینہ﷛فرماتے ہیں:
وذكر المنذري عن ابن عيينة ۔۔۔۔ قال: وقال أبو مطيع: كان عندنا ثقة.
ترجمہ:امام منذری نے ابن عیینہ سے ذکرکیاکہ وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ابو مطیع ثقہ ہے۔ (الایضاح والتبیین:ص137)
(8)عبداللہ بن حسین الموجان لکھتے ہیں:
أبو مطيع البلخي عنه، وهو إمام مُعْتَمَدُ النقلُ عن أبي حنيفة.
ترجمہ:ابو مطیع بلخی امام ابو حنیفہ﷛سے نقل کرنے میں اعتماد والا ہے۔ (الرد الشامل علی عمر کامل:جز12/3)
(9)ابو المؤید محمد بن محمد الخوارزمی ﷛لکھتے ہیں:
وكان أبو مطيع حافظاًمتقناً.
ترجمہ:اور ابو مطیع ہمارے نزدیک حافظ متقن ہے۔ (جامع المسانید للخوارزمی:2/54)
(10)احمد بن محمد بن بن اسماعیل الطحطاویm لکھتے ہیں:
قد مر أنه أبو مطيع البلخي تلميذ الإمام وحجته الأمر بها في الحديث.
ترجمہ:بے شک ابو مطیع بلخی شاگرد امام ابو حنیفہ حدیث میں حجت ہے۔ (حاشیہ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح:ص209)
(11)علامہ مزی﷛ نقل فرماتے ہیں:
وقال محمد بن عبد الله بن نمير : كان شيخا صالحا صدوقا.
ترجمہ:محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں کہ وہ شیخ صالح صدوق تھے۔ (تہذیب الکمال:8/521)
(12)علامہ ذہبی ﷛لکھتے ہیں:
قال ابن معين: صدوق.
ترجمہ: ابن معین نے فرمایا صدوق ہے۔ (العبر فی خبر من غبر: 1/258)
(13)شمس الدين أبو المعالی محمد بن عبد الرحمن بن الغزی فرماتے ہیں:
أبو مطيع البلخي: الحكم بن عبد الله، الإمام الحبر الفقيه، صاحب أبي حنيفة ومصنف الفقه الأكبر.
ترجمہ:ابومطیع بلخی حکم بن عبداللہ امام الحبر الفقیہ شاگرد امام ابو حنیفہm اور فقہ اکبر کے راوی ہیں۔ (دیوان الاسلام:ص81)
(14)عبدالحئی بن احمد بن محمد العکری الحنبلی فرماتے ہیں:
أبو مطيع الحكم بن عبد الله البلخي الفقيه صاحب أبي حنيفة وصاحب كتاب الفقه الكبر ۔۔۔۔ولي قضاء بلخ وحدث عن ابن عوفا وجماعة قال أبو معين ثقة.
ترجمہ:ابومطیع حکم بن عبداللہ بلخی فقیہ صاحب ابی حنیفہ اور صاحب فقہ اکبر ہیں اور بلخ کے قاضی تھے اورابن عوفا سے اور ایک جماعت سے روایت کی ،ابو معین فرماتے ہیں کہ ثقہ ہیں۔ (شذرات الذہب فی اخبارمن ذہب: 1/357)
(15)ابو حاتم فرماتے ہیں :
وقال أبو حاتم محله الصدق.
ترجمہ:ابو حاتم فرماتے ہیں کہ یہ سچے ہیں۔ (شذرات الذہب فی اخبارمن ذہب: 1/357)
(16) وهو أبو مطيع البلخي - ثقة.
ترجمہ:یہ ابومطیع بلخی ثقہ ہے۔ ( أرشيف ملتقی أہل الحدیث - 4:جز69/65)
(17)علامہ ذہبی﷛ کتاب العبرمیں فرماتے ہیں کہامام ابو داؤد کہا کرتے تھے:
عن كتاب العبر للذهبي عن أبي داود وبلغنا أنه من كبار الأمارين بالمعروف والناهين عن المنكر.
ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ابو مطیع امر معروف اور نہی منکر کرنے کے بہت اعلٰی درجے پر فائز تھے۔(العبر فی خبر من غبر: 1/258 ،حاشیہ لسان المیزان :2/335)
(18)علامہ خلیلی امام ابو مطیع بلخی کے ساتھ علماء کی ناراضگی سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
وقال الخليلي في الإرشاد كان على قضاء بلخ وكان الحفاظ من أهل العراق وبلخ لا يرضونه.
ترجمہ:ابو مطیع بلخی منصب قضا پر فائز تھے اور عراق و بلخ کے حفاظ حدیث آپ سے راضی نہ تھے۔ (لسان المیزان بتحقیق ابو غدہ:3/248)
جو شخص امر معروف اور نہی منکر کا عادی ہو اور اس میں وہ حاکم وقت کی بھی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہو بھی حنفی اس کو برداشت کرنا آسان کام نہیں تھا اس لیے لوگوں نے ان کے بارے میں رنگا رنگ باتیں پھیلا نا شروع کر دیں، یہ عادت اہل علم سے مخفی نہیں ہے کہ ایسا ہوتا رہا ہےاور یہ سب حسد اور تعصب کا کرشمہ ہے۔
(19)شوذب کے نزدیک ابو مطیع کا مقام:
حدثنا عمران بن الربيع أبو نهشل البلخي قال دخلت مع حمويه بن خليد العابد علي شوذب بن جعفر سنة الرجفة فقال شوذب لحمويه رأيت الليلة أبا مطيع في المنام فكأني قلت ما فعل بك فسكت حتى ألححت عليه فقال إن الله قد غفر لي وفوق المغفرة.
ترجمہ:شوذب اپنے ساتھی حمویہ سے کہتے ہیں ایک رات میں نے خواب میں ابو مطیع کو دیکھا گویا کہ میں ان سے پوچھ رہا ہوں کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیسا معاملہ ہوا؟ آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو میں نے اصرار کیا تو آپ نے جواب دیابے شک اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرمادی ہے اور بہت اونچی بخشش فرمائی ہے۔(تاریخ بغداد :8/223)
ابو مطیع الحکم بن عبداللہ بلخی پر جرح:
ابو مطیع بلخی پر محدثین نے کچھ جرحیں بھی نقل کی ہیں جو کہ مبہم اور غیر مفسر ہیں اور ایسی جرحیں اصول حدیث کی روشنی میں قابل قبول نہیں ہوتیں دیکھیے:
وهٰذا تقديم للتعديل على الجرح لأن الذي ذكرناه محمول على ما إذا كان الجرح غير مفسر السبب فأنه لا يعمل به. (الکافیہ فی علم الروایہ للخطیب: ص 101 ، صیانۃ صحیح مسلم من الاخلال والغلط: ص96)
(3) توجیہ النظر:2/550
اعتراض:اما م احمد بن حنبل﷛ فرماتے ہیں ابو مطیع سے روایت کرنا مناسب نہیں کیوں کہ ان کے بارے میں یوں کہا جاتا ہے کہ وہ کہتے تھے ”جنت اور دوزخ دونوں پیدا کئے گئے ہیں اور عنقریب دونوں فنا ہو جائیں گے۔“ (تاریخ بغداد :8/235)
جواب:یہ الزام سنی سنائی بات پر مبنی ہے اور ہے بھی سرا سر غلط، کاش امام احمد بن حنبل﷛ تک ابو مطیع کی امام ابو حنیفہ ﷛سے روایت کردہ کتاب پہنچی ہوتی جس میں وہ اس عقیدہ کا خود رد کرتے ہیں اور ایسے شخص کو کافر کہتے ہیں۔
قال إنهما تفنيان بعد دخول اهلهما فيهما فقد كفر بالله تعالٰى لأنه انكر الخلود فيهما. (الفقه الابسط ص157:حکم من كذب بالخلق او انكر معلوما من الدین بالضرورۃ)
نوٹ: یہ عقیدہ جہمیہ کا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ جنت میں جنتی اور جہنم میں جہنمی ایک وقت تک رہیں گے پھر یہ فنا ہو جائیں گیں۔
جس طرح امام ابو حنیفہ ﷛نے مرجئیوں کا ردکیا تو مخالفین نے انہیں ہی مرجئی قرار دے دیا بالکل اسی طرح ابو مطیع بھی جہمیوں کے خلاف تھے لہٰذا مخالفین نے انہیں ہی جہمی قرار دے دیا حالاں کہ وہ اس عقیدے کا رد کرتے ہیں۔ مزید تفصیل دیکھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے۔(کتاب الفقہ الابسط مترجم: ص72)
اگر صرف کسی کو مرجئی یاجہمی کے الزام کے سبب ضعیف قرار دیا جائے تو صحیح بخاری میں کتنے ہی ایسے راوی ہیں کہ جن پر مرجئی،جہمی،قدری،ناصبی،شیعہ،خارجی ہونے کا الزام ہے تو کیا ان کو کوئی ضعیف کہہ کر رد کرتا ہے اگر نہیں تو صرف یہی الزام کسی حنفی پر لگا رد کرنا کیا معنی رکھتا ہے تسلی کے لیے صحیح بخاری کے ان رواۃ کی تعدادبتائے دیتا ہوں
(1)صحیح بخاری کے مرجئی رواۃ کی تعداد 16 ہے ۔دیکھیےتہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی۔
(2)صحیح بخاری کے ناصبی رواۃ کی تعداد 4 ہے۔دیکھیےتہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی۔
(3)صحیح بخاری کے رافضی و شیعہ رواۃ کی تعداد 29ہے۔ دیکھیے تہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی۔
(4)صحیح بخاری کے قدری رواۃ کی تعداد 23ہے۔ دیکھیے تہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی وکتاب المعارف ،میزان الاعتدال
(5)صحیح بخاری کے خارجی رواۃ کی تعداد 4ہے۔ دیکھیے تہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی۔
(6)صحیح بخاری کے جہمی رواۃ کی تعداد 4 ہے۔ دیکھیےتہذیب التہذیب ابن حجر عسقلانی۔
امام ابو حنیفہ﷛ کی طرف منسوب ایک تحریف شدہ قول اور اس کی حقیقت:
کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ﷛ سے پوچھا گیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ آسمان میں ہے یا زمین میں تو امام صاحب نے فرمایا وہ شخص کافر ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ عرش پر مستوی ہوا۔۔۔۔ الخ
حالاں کہ امام ابو حنیفہ ﷛کی طرف منسوب یہ قول تحریف شدہ ہے اور صریح طور پر ان پر جھوٹ ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اصل قول یہ ہے کہ :
[قال ابو حنيفة من قال لا اعرف ربي في السماء او في الأرض فقد كفر وكذا من قال إنه على العرش ولا ادري العرش أفي السماء او في الأرض]
ترجمہ:ابومطيع بلخی کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمايا جس نے کہا کہ مجھے يہ معلوم نہيں کہ ميرا رب آسمان پر ہے يا زمين پر تو اس نے کفر کيا، اسی طرح جو کہتا ہے کہ اللہ عرش پر ہے ليکن مجھے پتہ نہیں ہے کہ عرش آسمان پر ہے يا زمين پر تو يہ بھی کافر ہے۔
( الشرح الميسر علی الفقہين الأبسط والاکبر المنسوبين لأبی حنيفۃ:ص135بتحقیق محمد بن عبدالرحمن خميس)
ابومطيع کی کتاب کے يہ الفاظ امام بياضی الحنفی رحمہ اللہ کے نسخے ميں صرف اس قدر ہيں اور امام فقيہ ابوالليث سمرقندی کے نسخے ميں يہ الفاظ ہيں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے الرحمن علی العرش استوی، پھر اگر وہ شخص کہے ميں اس آيت کو مانتا ہوں ليکن مجھے پتہ نہيں کہ عرش آسمان پر ہے يا زمين پرتو اس بات سے بھی اس نے کفر کيا،، اور دونوں نسخوں کے متنوں ميں وجہ کفر بيان نہيں کيا گيا کہ ايسا شخص کيوں کافر ہے،تو امام بياضی اور فقيہ ابوالليث سمرقندی رحمھم اللہ دونوں نے اس کا بيان کرديا کہ دراصل اس دوسری بات کا مرجع بھی پہلی بات کی طرف ہے کيونکہ جب وہ اللہ کو عرش پر مان کر کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہيں کہ عرش آسمان پر ہے يا زمين پر تو اس کا بھی وہی مطلب ہوا جو پہلی عبارت کا ہے کہ اللہ آسمان پر ہے يا زمين پر تب ايسے شخص نے اللہ کے ليے مکان کا عقيدہ رکھا اور اللہ کو مکان سے پاک قرار نہیں ديا،اور ايسا کہنے والااللہ کو اگرآسمان پر مانتا ہے تو زمين پر نفی کرتا ہے اور زمين پر مانتا ہے تو آسمان پر نفی کرتا ہے اور يہ بات اللہ کے ليے حد کو بھی مستلزم ہے۔
اور اسی طرح فقيہ ابوالليث سمرقندی اور بحوالہ ملا علی قاری رحمہ اللہ حل الرموز ميں ملک العلماءشيخ عزالدين بن عبدالسلام الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ يہ قول اللہ جل جلالہ کے ليے مکان ثابت کرنے کا وہم ديتا ہے تو اس بات سے يہ شخص مشرک ہوگيايعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو ازل سے ہے اگر اللہ کے وجود کے ليےمکان لازم ہے تو يقينا يہ مکان ازل سے ماننا پڑے گا اور اس طرح ايک سے زائد قديم ذات ماننا پڑیں گے جو کہ اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
اور امام ابو حنیفہ ﷛ کا جو قول تھا اس سے کچھ آگے چل کے وہ خود ہی اس بات کا جواب دیتے ہیں:
امام ابوحنیفہ ﷛ فرماتے ہیں کہ:
قلت أرأيت لو قيل أين الله تعالى فقال يقال له كان الله تعالى ولا مكان قبل ان يخلق الخلق وكان الله تعالى ولم يكن أين ولا خلق كل شيء.
ترجمہ:” جب تم سے کوئی پوچھے کہ اللہ (کی ذات )کہاں ہے تو اسے کہو کہ (اللہ وہیں ہے جہاں) مخلوق کی تخلیق سے پہلے جب کوئی جگہ و مکان نہیں تھا صرف اللہ موجود تھا۔ اوروہی اس وقت موجود تھا جب مکان مخلوق نا م کی کوئی شے ہی نہیں تھی۔“(الشرح الميسر علی الفقہين الأبسط والاکبر المنسوبين لأبی حنيفۃ :ص161، العالم والمتعالم :ص57)
لہذا آج کل جو غيرمقلدین امام صاحب کے اس قول ميں الفاظ کے ملاوٹ کے ساتھ معنی ميں بھی تحریف کرکے اس کا مطلب اپنی طرف موڑتے ہیںوہ بالکل غلط اور امام صاحب کی اپنی تصريحات کے خلاف ہےاور جس ملاوٹ اور لفظی تحريف کی بات ہم نے کی اس کی تفصيل يہاں ذکر کرتے ہیں۔
اوپر امام صاحب کا قول ابومطيع کی روایت سے ہم نے بيان کرديا کہ وہ کس قدر الفاظ کے ساتھ مروی ہے اور اس کی تشريح فقيہ ابوالليث اور امام عزالدين بن عبدالسلام کے ارشادات کے مطابق بلا غبار واضح نظر آتی ہے ليکن غيرمقلدين ميں ايک شخص جن کو يہ لوگ شيخ الاسلام ابواسماعيل الھروی الانصار ی صاحب الفاروق کے نام سے جانتے ہيں اور ان کی کتابوں ميں الفاروق فی الصفات اور ذم الکلام شامل ہيں جن ميں يہ جناب اشاعرہ کومسلم بلکہ اہل کتاب بھی نہيں سمجھتے اور ان کے ذبيحے حرام اور ان سے نکاح بھی حرام کہتے ہيں اور يہ فقيہ ابوالليث سمرقندی رحمہ اللہ کے وفات سنہ 373ھ کے سو سال بعد آئے ہيں اور انہوں نےاسی روايت ميں اپنی طرف جو الفاظ چاہے اپنی طرف سے بڑھاديے حتیٰ کہ ساری بات کا مفہوم ہی بگاڑديا اور کلام کا رخ اپنے مطلب کی طرف پھيرديا چنانچہ ان جناب نے اس عبارت کو اس طرح روايت کيا
قَالَ سَأَلت أَبَا حنيفَة عَمَّن يَقُول لَا أعرف رَبِّي فِي السَّمَاء أَوفِي الأَرْض فَقَالَ قد كفر لِأَن الله تَعَالٰی يَقُول {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} وعرشه فَوق سمواته :فَقلت إِنَّه يَقُول أَقُول على الْعَرْش اسْتَوَى وَلَكِن قَالَ لَا يدْرِي الْعَرْش فِي السَّمَاء أَو فِي الأَرْض قَالَ إِذا أنكر أَنه فِي السَّمَاء فقد كفر.
کيااس عبارت ميں انہوں نے لِأَن الله تَعَالٰی يَقُول {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} وعرشه فَوق سمواته کی تعليل [یعنی چوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں کہ رحمن نے عرش پر استواء کرليا، اور اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے] اور يہ الفاظ إِذا أنكر أَنه فِي السَّمَاء فقد كفر کي تعليل [يعنی جب اس شخص نے انکار کرليا کہ وہ آسمان پر ہے تو اس نے کفر کيا] يہ دونوں باتوں کو انہوں نے اس عبارت ميں اپنی طرف سے بڑھاديں جس کی وجہ سے مفہوم بظاہر تجسمی معنی کی طرف مائل ہوتا نظر آرہا ہے حالاں کہ اصلی عبارت اور امام صاحب کی ديگر تصريحات سے امام صاحب کا مسلک اہل سنت کا ہي مسلک ہونے ميں واضح ہے، تو يہاں پر کفر کي وجہ يہ نہيں ہے کہ اس شخص نے اللہ کو آسمان پر ماننے سے انکار کرديا اس ليے کافر ہے،بلکہ يہ الفاظ تو الھروی نے اپنی طرف سے بڑھادیے اور ان الفاظ کا کوئی وجود ہی نہيں ہے اصل عبارت ميں، اور کفر کی وجہ وہی ہے جو امام ابوالليث نے الھروی سے سو سال پہلے بيان کيا اور امام عزالدين بن عبدالسلام نے بھی بيان کيا کہ دراصل يہ بات اللہ کے ليے مکان و جگہ ثابت کررہا ہے اس ليے يہ کفر ہے۔
اور تعجب يہ ہے کہ يہ شخص ابواسماعيل الھروی ان حضرات کے ہاں بہت بڑے پائے کے ہيں جب کہ ان کے اپنے ہی شيخ الاسلام ابن تیمیہ ان کا مسلک اپنے مجموع الفتاوی ميں کلام الٰہی کے بارے ميں يہ نقل کرتے ہيں کہ ان کے ہاں اللہ کا کلام نازل ہوکر مصحف ميں حلول ہوگيا والعياذباللہ اور ساتھ ميں جناب کی يہ عجيب منطق بھی نقل فرمائی ہے کہ يہ وہ والی حلول نہيں جو ممنوع و مضر ہے۔
وَطَائِفَةٌ أَطْلَقَتْ الْقَوْلَ بِأَنَّ كَلَامَ اللّهِ حَالٌّ فِي الْمُصْحَفِ كَأَبِي إسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيِّ الهروي الْمُلَقَّبِ بِشَيْخِ الْإِسْلَامِ وَغَيْرِهِ وَقَالُوا: لَيْسَ هٰذَا هُوَ الْحُلُولُ الْمَحْذُورُ الَّذِي نَفَيْنَاهُ. بَلْ نُطْلِقُ الْقَوْلَ بِأَنَّ الْكَلَامَ فِي الصَّحِيفَةِ وَلَا يُقَالُ بِأَنَّ اللّهَ فِي الصَّحِيفَةِ أَوْ فِي صَدْرِ الْإِنْسَانِ كَذَالِكَ نُطْلِقُ الْقَوْلَ بِأَنَّ كَلَامَهُ حَالٌّ فِي ذَالِكَ دُونَ حُلُولِ ذَاتِه.
ترجمہ: ابن تیمیہ کہتے ہيں کہ ايک گروہ نے يہ بات بھی کہی ہے کہ اللہ کا کلام مصحف ميں حلول ہوگيا ہے جيسا کہ ابواسماعيل الھروی جو کہ شيخ الاسلام کے لقب سے جانے جاتے ہیں وغيرہ، يہ لوگ کہتے ہيں کہ يہ وہ حلول نہیں ہے جو محذور ہے اور جسے ہم نے نفی کيا ہے بلکہ ہم يہ کہتے ہيں کہ اللہ کا کلام صحيفہ ميں ہے اور يہ نہيں کہا جائے گا کہ اللہ صحيفہ ميں ہے يا انسان کے سينے ميں ہے اسی طرح ہم کہتے ہيں کہ اس کا کلام اس ميں [يعنی مصحف يا صحيفے ميں] حلول ہوگيا ہے ليکن اللہ کی ذات حلول نہيں ہوئی۔ (مجموع الفتاوٰی: 12/ 294)
سبحان اللہ اگر يہی کلام کوئی بھی اہل سنت کا معتقد خدانخواستہ کہ دیتا تو کيا اس کو کوئی شيخ الاسلام کے لقب سے ملقب کرتا؟ تو خلاصہ کلام يہ ہوا کہ ابومطيع سے امام صاحب کی اس بات کی روایت کو اگر ابواسماعيل الھروی کی من گھڑت زيادتی کے بغیر نقل کيا جائے تو اس ميں کوئی خرابی نہیں اور کلام کا مفہوم مکان کی نفی ميں واضح ہے خصوصًاجب امام صاحب کے باقی ارشادات کی روشنی ميں اس کو قوی قرائن مل جاتے ہيں۔
اور اسی کلام کو ابن قیم نے ان الفاظ کی زيادتی سے نقل کيا ہے[لانه انکر ان يکون في السماء لانه تعالٰي في اعلي عليين]یعنی يہ شخص اس ليے کافر ہے کہ اس نے اللہ کو آسمان پر ماننے سے انکار کرديا، کيوں کہ اللہ اعلیٰ عليين ميں ہے حالاں کہ قرآن وسنت ميں کہیں بھی اللہ کو اعلیٰ عليين ميں نہیں کہا گيا تو يہ سب تصرفات جناب ابواسماعيل الھروی کی تحریف کرد ہ ہیں اور ان سے امام ذہبی رحمہ اللہ نے [العلو] ميں اور امام ابن قيم نے[ اجتماع الجيوش الاسلاميہ:ص267] ميں نے ان کو اسی طرح نقل کر لیااسی طرح اسماعیل الہروی کے بعد آنے لوگوں نے اسی کا حوالہ دے کر اسی قول کو نقل کیا ہے جب بنیاد ہی اس قول کی درست نہیں تو اس من گھڑت قول کی بناء پر کسی کو مطعون کرنا درست نہیں ،حالاں کہ یہ اسماعیل الہروی خود اللہ تعالیٰ کے کلام کے حوالے مطعون ہے جیسا کہ اوپر ہم نے حوالے کے ساتھ بتایا۔
اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اس من گھڑت بات کی بنا پر ابو مطیع کو مطعون کرنا صرف تعصب ہے اور تعصب کی جرح مردود ہےاسی طرح محدثین بلا تحقیق اس بات کو نقل کرتے رہے اور ابو مطیع کو ضعیف قرار دیتے رہے ہم نے اس حقیقت کو واضح کردیا ہے ایک انصاف پسند آدمی کے لیے بات واضح ہوگئی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حق واضح ہوجانے کے بعد اس کو قبول کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین۔

Post a Comment

0 Comments