صوفیہ کرام اور ہماری تبلیغ میں فرق


 

صوفیہ کرام اور ہماری تبلیغ میں فرق

مولانا غیاث الدین احمد عارف مصباحی

صوفیہ کرام نے تبلیغ کا جو طریقہ اپنایا وہ ہر دور میں مفید اور خوش آیند رہا  ،انھوں نے دنیاکے سامنے سر  جھکانے کے بجائے دنیا والوں کے دلوں کو فتح کرنا اپنا ہدف بنا یا۔ ان کا ماننا تھا  کہ جن لوگوں کو انھیں  اپناپیغام پہنچانا ہے،  پہلے اُن کے دل میں اپنی جگہ بنانی ہوگی ، انھیں اپنا گرویدہ بنانا ہوگا ، اس لیے انھوں نے قرآن کا طریقۂ تبلیغ (احسن طریقہ)  اپنایا ۔ہندوستان میں زیادہ تر صوفیہ وسطی ایشیا سے آئے۔  انھوں نے ہندوستان کو اپنا وطن سمجھا۔ اس کی زبان سیکھی، ان کے کلچر سے واقفیت حاصل کی، ان کا لباس اپنایا   اور اُن کی  وہ تہذیب وثقافت جو اسلامی اصولوں کے مخالف نہ تھی اسے قبول کیا  ۔

اُن کی سب سے  اہم خاصیت یہ رہی کہ  اُنھوں نے کسی کو حقیر تصور نہیں کیا،سب سے محبت وخلوص کا برتاؤ کیا ،ادنیٰ اعلیٰ ، امیر غریب سب کو برابر سمجھا ،انہوں نے اپنے پاس آنے والوں  کو جاہل و حقیر قرار نہیں دیا بلکہ ان سے محبت و الفت کا سلوک کیا۔ اُن کے پاس جوبھی آتا خواہ وہ کسی بھی دھرم کاماننے والا ہو  اُس سے پیار کرتے، اسے اپنا بناتے۔ ان کے لنگر سب کے لیے بلا تفریق جاری رہتے۔ انہوں نے اپنی دعوت کوعملی شکل میں پیش کیا ،ان کی محبت بھری باتوں ،نظموں ، کہانیوں میں اتنی اپنایئت تھی کہ جو بھی سنتا   فریفتہ ہوجاتا ،یہی وجہ ہے کہ لاکھوں لاکھ افراد نے ان کے ہاتھ پر توبہ کر کے اسلام کو اپنا مذہب بنا لیا ،اور جو کسی وجہ سے اسلام کے دائرے میں نہ آسکے وہ بھی ان کا دیوانہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔جس کی زندہ مثالیں آج بھی ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں ،ان کے مزارات اور خانقاہوں پر جس طرح مسلمان جاتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں ،اسی طرح غیر مذاہب کے افراد بھی ان کی بارگاہوں میں اپنی عقیدتوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں


اس کے برعکس آج ہمار ا حال یہ ہےکہ ہم میں اکثر افراد سے خلوص ومحبت اور ایثار کا  وہ جذبہ مفقود نظر آتا ہے جو ایک مبلغ  اسلام کے لیے درکا رہے ،ہمارے اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، رہن سہن اور لباس کا انداز  عام لوگوں سے بہت مختلف ہے ، ہم میں بناوٹ ،جلوہ نمائی، اور خود نمائی کا عنصر غالب ہے  ،ہم  اپنے مخاطبین کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کی بات سنے بغیر  صرف  اپنی سنانے کی فکر میں رہتے ہیں۔

 ہمارے اسلاف اورصوفیۂ  کرام  نے نہ کوئی  تنظیم قائم کی تھی نہ کوئی بہت بڑا ادارہ بنایا تھا ،لیکن کیا وجہ ہے کہ لوگ ان کے عاشق ہوتے چلے گئے؟  اس کی وجہ صرف اور صرف ان کا محبت بھرا اندازِ تبلیغ تھا، وہ  عام طور سے  اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے قرآن وحدیث  کا پیغام پہنچاتے تھے ،جو بھی آتا اُسے نصیحت کرتے ،خوف خدا دلاتے،اُن کو دنیا کی لالچ نہیں تھی بلکہ اُن کو صرف ایک لالچ تھی کہ پیغام الہی اور نبی پاک ﷺ کی شریعت ،ساری دنیا تک پہنچ جائے ۔ تقریریں وہ بھی کرتے تھے بلکہ یہی ان کی تبلیغ کا اہم ذریعہ تھا ،اور تقریریں آج بھی ہوتی ہیں ،بڑے بڑے مجمعے اکٹھے کیے جاتے ہیں ، لاکھوں روپئے صرف کیے جاتے ہیں ،لیکن کیا وجہ ہے کہ آج   لوگ موجودہ دور کے مقررین  کی تقاریر سے دور بھاگتے ہیں؟جو سنتے بھی ہیں تو اُن کا حال یہ ہے کہ ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں ،اُس کی وجہ یہ ہےکہ انسان کے دل پر وہی بات اثر کرتی ہے جس کے پیچھے محبت، اپنائیت اور خلوص وایثار  کے جذبات ہوں اور مخاطب کو ویسی ہی عزت دی جائے جس کی ہم اپنے لیے توقع کرتے ہیں۔شیخ جامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :

نہ تنہا عشق از دیدار خیزد

بساکیں دولت ازگفتار خیزد

یعنی  عشق صرف دیدار سے ہی پیدا نہیں ہوتا ،بعض دفعہ محبوب کی باتیں سننے سےبھی آتش شوق بھڑک اٹھتی ہے ۔ اور حقیقت یہی ہے جب انسان   اچھی سیرت اورنیک  کردار   کا سنگم ہوتا ہے تو اس کی زبان سے نکلی ہوئی بات دل کی گہرایئوں میں اتر جاتی ہے، جب گفتگو  حکمت  سے بھرپور،شیرینی سے معموراور ایک دردمند دل کی ترجمان ہو تو ہر ہر حرف میں عجب چاشنی اور لذت محسوس ہوتی ہے ۔علامہ اقبال کہتے ہیں :

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر  نہیں ، طاقت پرواز مگر   رکھتی ہے

اب بھلا بتائیں جو مقرر ہزاروں روپئے نذرانہ لے کر نصیحت کررہا ہے اُس کی بات کہاں اثر انداز ہوگی ،ارباب جلسہ اُن کی کتنی بھی عزت وتوقیر کرتے ہوں مگر سب ظاہری اور دکھاوے کے ہوتے ہیں،سچی محبت کہاں ہوتی ہے کہ اُن کی بات محبت وعقیدت سے سماعت کریں ،پہلے بھی خانقاہیں تھیں اور آج بھی ہیں مگر زمین ،آسمان کا فرق ہے دونوں میں ۔وہاں حرص کا نام ونشان نہ تھا اور یہاں حرص ہی حرص ہے ۔وہاں ترک دنیا تھا یہاں حصول دنیا ہے ۔وہاں غربا،فقرا،مساکین کے لیے لنگر جاری رہتے تھے یہاں ہر آن مریدوں کی جیب پر نظر جمی رہتی ہے ، وہاں خلوص وایثار اور تقویٰ تھا، یہاں خود بینی ،خود نمائی ، عشوہ طرازی،  اور بے دینی ہے ۔وہاں احترام انسانیت ،خدمت خلق ،حسن اخلاق  اور توکل کا بے پایاں جذبہ تھا اور یہاں اُن میں سے کچھ بھی نہیں۔ وہاں کا نظریہ تھا "طمع مکن ،جمع مکن ،منع مکن" ،اور یہاں پہلے دونوں ’’  نہی‘‘ کو ’’ امر‘‘  میں تبدیل کردیا گیا ، صرف آخر کو اپنی صورت پر برقرار رکھا گیا ہے ۔پھر کہاں سورج ،کہاں ذرہ ؟  کہاں سمندر؟  کہاں قطرہ ؟  کہاں خلوص ؟ کہاں لالچ ؟کیسے برابر ہوسکتے ہیں ؟

ہم نے پڑھا ہے جب حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطاب فرماتے تھے تو سامعین کی تعداد ستر ہزار سے متجاوز ہوجاتی تھی جب کہ نہ کوئی اعلان ہوتا  نہ کوئی ڈیکوریشن اور لائٹنگ کی جاتی تھی ،نہ پوسٹر چھپوائے جاتے تھے ،نہ دعوت نامے تقسیم ہوتے تھے مگر عاشقوں کا ازدہام تھا کہ بڑھتا ہی جاتا تھا ، انسان تو انسان جنات کی جماعت بھی کثرت سے آپ کا خطاب سننے کو حاضر ہوتی ،اخبار الاخیار میں ہے کہ آپ کی محفل میں انسانوں سے زیادہ جنات ہوتے اور کثرت سے انھوں نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی۔ مگر آج کیا وجہ ہے کہ ہزار جتن کے بعد ہم مجمع تو اکھٹا کر لیتے ہیں مگر یہ نمائش کے سوا کچھ نہیں ہوتا، نہ نمازی بڑھتے ہیں  ،نہ پرہیز گاروں کی لسٹ میں اضافہ ہوتا ہے ،حد تو یہ ہے کہ جلسہ کرنے  والوں کا مقصد بھی یہ سب نہیں ہوتا بلکہ ان کی نظر بس اس بات پر ٹکی رہتی ہے کہ کس کی تقریر کامیاب ہوئی اور کس کی ناکام ؟ کس نے زیادہ واہ واہی لوٹی اور کس نے کم ؟  ہاں  ! اگر یہی حال ہے تو اللہ ہی حافظ ہے اس قوم کا ۔

 اگر کسی کو کچھ کہیں تو بُرا لگتا ہے ، پیشہ ور مقرروں کی اتنی مانگ ہے کہ ان کے بارے میں کچھ زبان پر لانا بھی کسی جہاد سے کم نہیں ہے ،کچھ تو اتنے جری ہیں کہ ایک  ہی رٹی رٹائی تقریر میں اُن کی ساری عمر کٹ جاتی ہے،اُن کے ایک ایک حرف پر ہزاروں روپئے قربان ہوگئے مگر دین کا فائدہ دیکھیں تو صفر نظر آتاہے ، عوام کی جہالت کا حال یہ ہے کہ وہ پیشہ وروں کے علاوہ نیک وصالح اور دین کی بے لوث خدمت کرنے والوں کو کوئی بھاؤ ہی نہیں دیتے اور اگر کوئی اِن مظلوموں کو اپنا بنانے کی کوشش کرتا بھی ہے تو پیشہ ور افراد طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے عوام کو برگشتہ کرنے میں کوئی کسر نہیں باقی رکھتے ۔

اس خطرناک صورت حال کے لیے جہاں بعض علما مجرم ہیں وہیں عوام بھی کم مجرم نہیں ہیں ،ہمارے پاس جلسوں اور محافل کے علاوہ دینی باتیں سماعت کرنے کاایک اور حسین بلکہ سب سے حسین موقع جمعہ کا ہے ،تقریباً تمام  مساجد میں ائمہ کرام  ہر جمعہ کو خطاب کرتے ہیں ،مگر آپ غور کریں جب  اردو تقریر ہوتی ہے تو سننے والے اپنے اپنے کام میں لگے ہوتے ہیں،اپنی تجارت اور بزنس میں مصروف ہوتے ہیں  اور جیسے ہی اذان ثانی ہوتی ہے مسجدیں بھر جاتی ہیں اور اب عربی خطبہ شروع ہوتا ہے جسے سمجھنے کا تو سوال ہی نہیں ، اور اس طرح وہ ایک حسین موقع کھودیتے ہیں ۔

میلاد کی محفلیں بھی ایمان وعرفان کی باتیں سننے کا موقع فراہم کرتی ہیں ،مگر یہ بھی ایک رسم بن کر رہ گئی ہیں ،اِن محفلوں میں لوگ دوستی اور رشتہ داری نبھانے کے لیے شرکت کررہے ہیں ،دین کی باتیں سننے کا مقصد مفقود ہوتا جارہاہے ،( الا ماشاء اللہ )

جلسوں کا حال تو آپ نے سُن ہی لیا ، اللہ رحم کرے ایسے ایسے نمونے مقررین وشعرا کا دیدار ہوتا ہے  جو کسی سرکس میں کام کرتے تو یقیناً بہت کامیاب جوکر اور مسخرے کا رول ادا کرتے، شام سے صبح ہوجاتی ہے ،کبھی ایک ہاتھ اُٹھوائے جاتے ہیں کبھی دونوں ہاتھ ،کبھی مفت میں جنت بانٹی جاتی ہے تو کبھی اپنی فرمائش پوری نہ ہونے پر گستاخی  کا لیبل چسپاں کردیا جاتا  ہے ۔ ابھی گزشتہ دنوں پاکستان میں اسی انداز نے ایک نوجوان کو ایک ہاتھ سے محروم کردیا ،ہوا یوں کہ ایک شعلہ بار مقرر نے سامعین کو مخاطب کرکے کہا : جو لوگ نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں ،اپنا ہاتھ اُٹھا ئیں ،لوگوں نے اُٹھایا ،پھر دھوکہ دیتے ہوئے تیزی سے کہتاہے:  جو محبت نہیں کرتے ،اپنا ہاتھ اٹھائیں،مجلس میں ایک نوجوان نے غلطی سے اپنا  ہاتھ اُٹھا دیا ،پھر کیا تھا مقرر صاحب نے فوراً اس پر گستاخ رسول ہونے کا طعنہ جڑ دیا ۔ جانتے ہیں پھر کیا ہوا ؟  وہ نوجوان گھر گیا اور اُس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ دیا اور سر محفل مذکورہ مقرر کو اپنا کٹا ہاتھ تھما دیا ۔ اور کہا : میں اُ س ہاتھ کو پسند نہیں کرتا جو غلطی سے نبی پاک ﷺ کی گستاخی کے لیے اُٹھ گیا تھا ۔ اس نوجوان کا عشق ایک طرف مگر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کیا مقرر کا ایسا کرنا صحیح تھا ؟کیا اس کو مجرم نہیں کہا سکتا ؟ اللہ رحم فرمائے ہماری حالت زار پر ،  پوری رات گزر جانے کے بعد فائدہ صرف مقررین اور شعراکا ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ آپ مائک ، لائٹ ،شامیانے  والے کو اس میں جوڑ سکتے ہیں، بقیہ سامعین جیسےشام کو خالی ہاتھ آئے تھے صبح کو اسی طرح واپس ہوجاتے ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ آج ہمارے علماکےقدر دان اتنے کم کیوں ہوتے جارہے ہیں؟  اگر یہ سوال علماسے کیا جائے تو وہ موجودہ دور کی  معاشرتی بگاڑ کو اس کا ذمہ دار قرار دیں ،مگر کیا ہم یہ کہہ کر بری الذمہ ہوسکتے ہیں ؟ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ خیر و شر ،کفر وشرک ،بدی اور نیکی کی جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی اوربُرائی ہمیشہ نئی نئی شکلوں میں آتی رہے گی۔ بدی کی نئی شکلیں دیکھ کر ہمیں  دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ  فتح وکامرانی ہمیشہ نیکی ہی کی ہوتی ہے،لہذا بُرائی جس انداز میں بھی آئے ہمیں اس کے خاتمے  کا طریقہ اپناناہی ہوگا  ،ہمیں ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا ،بُرائی بُرائی سے ختم نہیں ہوسکتی ،اُ س کے مقابل نیکیوں کا پہاڑ کھڑا کرنا ہوگا ،نفرت کا جواب نفرت سے دیں گے تو دنیا تباہ وبرباد ہو جائے گی ،معاشرہ شر وفساد کی آماجگاہ بن جائے گا ،ہمیں اس کے مقابل نبی کریم ﷺ اور ان کے سچے عاشقوں کا حسن اخلاق لے کر آنا ہوگا ، ہمیں اُن کے کانوں تک پہنچنے سے پہلے اُن کے دلوں تک رسائی حاصل کرنے کی جگت کرنی ہوگی ،ہمیں اُن کے ذہن میں گھر بنانا ہوگا ،تب دیکھیں گے کہ ہماری ہر بات الفاظ کا جامہ پہننے سے پہلے ہی ان کے اذہان وقلوب کو اپنا گرویدہ بنا چکی ہوگی ۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ دنیا سے سچے مبلغین کا بالکلیہ  خاتمہ ہوچکا ہے نہیں ! ہرگز نہیں !   آج بھی   ایسے  اہل علم، صاحبان اخلاص وایثار اور نبی پاک ﷺ کے سچے عشاق  موجود ہیں جن کا خطاب سننے کے لیے ہزاروں افراد بے تاب رہتے ہیں۔ سچ ہے ،جب باتیں حکمت وموعظت سے لبریز ہوں گی ،اُن میں معارف وحقائق کے خزینے ہوں گے ،انداز بیان میں کشش اور کیف کا سماں ہوگا تو بے ساختہ دل اس کی طرف کھنچتے چلے آئیں گے اور اس کے بے شمار مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے ۔

 تبلیغ کا احسن طریقہ اپنائیں: ہمیں اس خطرنا ک صورت حال پر کنٹرول کرنا ہوگا ،اور یہ کام بہتر طور پر علماے کرام ہی کر سکتے ہیں  ، سب سے پہلا کام یہ ہے کہ علماے کرام جمعہ کی تقاریر کو مفید اور کارآمد بنانے کی کوشش کریں ، آپ  نے عوام اہل سنت اور اپنے مقتدیوں کو کیا پیغام پہنچانا ہے اس کی مکمل تیاری کریں ،خاکہ بنائیں،موضوع کا انتخاب کریں ، ہر جمعہ کو اعلان کردیں  کہ اگلے جمعہ کو فلاں موضوع پر بیان ہوگا ۔محض وقت گزاری نہ کریں بلکہ قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے پیغامات نشر کرنے کی کوشش کریں ،  اگر زبانی بیان کرنے میں مشکل ہو تو کتابیں اور ضروری نوٹس ساتھ رکھیں اور انھیں سامنے رکھ کر بولیں ،یہ طریقہ سب سے بہتر ہے ، آپ یہ نہ سمجھیں کہ اس سے آپ کا علمی وقار کم ہو جائے گا ، بلکہ اس سے آپ کے خطاب کا وزن اور بڑھ جائے گا ،کیوں کی آپ کے سامعین کے اذہان وقلوب  میں یہ بات  بیٹھی ہوگی کہ حضرت کی بات اٹکل پچھو نہیں ہے بلکہ حوالے کے ساتھ ہے ،جس کی تاثیر آپ خود ہی  محسوس کر سکیں گے ۔ (واضح ہو یہ طریقہ سنی دعوت اسلامی اور دعوت اسلامی کے مبلغین نے پہلے سے اپنا رکھا ہے جو ہمیں بہت پسند ہے ۔)

یہی طریقہ ہم جلسوں میں بھی اختیار کرکے اس کی افادیت کو برقرار رکھ سکتے ہیں ،جلسے اور کانفرنس کی تاریخ طے ہوتے ہی اپنے تمام مدعو مقررین و خطبا کو یہ بتادیں کہ انھیں کس موضوع پر خطاب کرنا ہے۔ شعرا  کو خاص تاکید کردیں کہ وہ یا تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا یا کسی معتبر شاعر کا ہی کلام پیش کریں غیر معیاری اشعار ،بار بار تکرار ، لطیفہ بازی اور نمائشِ حسن سے پرہیز کریں؛ تاکہ انھیں بھی کوئی دشواری نہ ہو اور آپ کا بھی مقصد حل ہوجائے ،ہم نے دیکھا ہے کہ ، سیرت النبی کانفرنس  ہے ، یا جشن غوث الوریٰ ہے ۔ یااسی طرح کا کوئی لیبل جلسے کے ساتھ لگا ہوا ہے ۔مگر پوراجلسہ ہونے کے بعد بھی اپنے   موضوع سے خالی نظر آیا ۔ابھی گزشتہ دنوں میں نے خود ایک جلسے کا انعقاد کیا اور اپنے ایک مدعو مقرر جن کو ایک ماہ قبل ہی ایک  متعین موضوع پر خطاب کرنے کی گزارش کی تھی ،خطاب سےعین قبل بھی کئی بار یاد دہانی کرائی مگر جناب والا جب اسٹیج پر جلوہ گر ہوئے تو موضوع کو ہاتھ لگانے کی بھی زحمت نہ کی ۔یہ بھی ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔لیکن سب ایسے نہیں ہیں ۔ اللہ خیر فرماے۔

مدارس کا حال :مدرسے بھی تبلیغ کا اہم وسیلہ ہیں مگر کچھ مدارس کو چھوڑ دیا جائے تو اکثر مدارس اپنے ہدف سے دور ہو چکے ہیں ، آج ہم تبلیغِ اسلام کی نیت سے کم، روزی کے حصول اور ڈیوٹی نبھانے کی نیت سے زیادہ تعلیم وتعلم کا کام کررہے ہیں ،ہم میں سے ہر ایک دعویٰ کرتا ہے کہ ہم بہت بڑے مخلص ہیں لیکن ہمارے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو پکےدُنیا دار نظر آتے ہیں(الّا ماشاء اللہ) ۔ ہمیں اپنی تنخواہ ، اپنے پروگرام  اور گھر کے کام سے مطلب ہوتا ہے ،یہ سوچنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اپنا کچھ وقت بلا معاوضہ تبلیغ دین میں بھی صرف کردیں ۔ جب کہ ہم اگر اپنا معمول بنا لیں کہ روزانہ صرف ایک آدمی کو دین کی باتیں سکھائیں گے یا اتنا بھی نہ ہوسکے تو کم ازکم ہفتے میں ایک آدمی سے صرف اس نیت سے ملیں گے کہ اُسے قرآن و سنت کی بات بتائیں تو اس طور پر ہم میں سے ہر ایک دین کی تبلیغ کا بہت بڑا کام کر سکتا ہے ۔اور انعام ِالہی کا حق دار بھی ۔ رسولِ گرامی وقار ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:  وَاللّٰہِ لا یَہدِیُ اللّٰہُ بِکَ رجُلاً واحداً خیرٌ لَّکَ من انْ یَّکونَ لک حمرُ النعم۔ (بخاری )

اللہ کی قسم ! اگر تمھارے ذریعے اللہ کسی ایک شخص کو بھی راہ دکھادے تو یہ تمھارے حق میں سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔

آپ نے سنا نہیں ! سرکار کریم ﷺ کیا فرماتے ہیں؟   :بَلِّغُوا عَنّی و لواٰیَۃً. (بخاری)

میری بات اوروں تک پہنچاؤچاہے وہ ایک ہی بات ہو۔

یہ سچ ہے کہ ہم انسان ہیں اور ہمارے ساتھ انسانی ضروریات بھی جُڑی ہوئی ہیں ۔سماجی ،معاشرتی ،ضرورتیں ۔اہل خانہ کے حوائج کی تکمیل ، اور اس طرح دیگر ضروریات ۔ لیکن اِن سب کے باوجود اگر ہم تھوڑا سا وقت دین کے لیے نکال لیں تو شاید " کنتم خیر امۃ  " کی جماعت کے کسی گوشے میں ہم بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔ یاد رکھیں ! زندگی میں وہی افراد  کامیاب  سمجھے جاتے ہیں جو اپنے ہدف پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ کرتے ہیں اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی جان کی بازی بھی  لگانے سے گریز نہیں کرتے ۔ کاہل ،مطلب پرست ،ابن الوقت نہ کبھی کامیاب ہوتے ہیں نہ سمجھے جاتے ہیں۔ذرا سنیں ہمارا رب کیا ارشادفرماتا ہے: وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۰۰۳۳ (حم السجدۃ:۳۳)

اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہاکہ میں مسلمان ہوں۔

مبلغ اسلام کیسا ہو؟ : اسلام کے مبلغ کے لیے  اقوال واعمال میں یکسانیت ،کبر ونخوت سے احتراز،تواضع وانکساري، ریاکاری سے دوری ، راست گوئی ،حکمت عملی ، حسن اخلاق ، احکام شرعیہ کی پاسداری ، اللہ کے بندوں سے محبت، کام میں تسلسل ،صبر و استقامت،استقلا ل،ہمت وجواں مردی ، وغیرہ ضروری چیزیں ہیں۔ بلکہ یہ افعال حسنہ تو ہر مومن کا خاصہ ہونا چاہیے اور ہر مسلمان کا  ایمانی  فریضہ ہے کہ وہ اچھائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہٰ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطبع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان۔(مسلم: کتاب الایمان)

جب تم میں سے کوئی کسی بُرائی کو دیکھے تو اس کو چاہیے اسے اپنے ہاتھ سے مٹادے، اور اگر اس کی قوت نہ رکھتاہوتو زبان سے روکے اور اس کی بھی قوت نہ ہوتو دل سے اُسے بُرا مانے اور یہ ایمان کا کمتر درجہ ہے۔

گویا تمام امت محمدیہﷺ کی حیثیت ایک داعی کی ہے ، لیکن ایک عالم دین اور خانقاہ کےفرد کی  ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں، جیسا کہ  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۱۰۴

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں (اٰل عمران:۱۰۴)

یعنی مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جوخیر کی دعو ت دےاور شر سے روکے۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے