حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں یا ولی ؟




سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ حضرت خضر نبی ہیں یا ولی ؟ مدلل جواب سے نوازیں
فیضان رضا بردوان بنگال

الجواب:
صورت مسئولہ میں اختلاف ہیکہ حضرت خضر علیہ السلام ولی ہیں یا نبی علمائے ۔جمہور کے نزدیک حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں
امام اہلسنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ شریف جلد 26صفحہ401پر تحریر فرماتے ہیں :
اورسیدنا خضرعلیہ السلام بھی جمہورکے نزدیك نبی ہیں اوران کوخاص طورسے علم غیب عطاہواہے،
قال اﷲ تعالٰی " وَعَلَّمْنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلْمًا ﴿۶۵﴾سورہ کہف آیت نمبر65
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اورہم نے اسے اپنا علم لدنی عطافرمایا۔
ملفوظات اعلی حضرت صفحہ483پر ھے :
جمہور کا مذہب یہی ھے اور صحیح بھی یہی ہیکہ وہ نبی ہیں۔
تبیان القرآن جلد7صفحہ161پر ہے :
حضرت خضر (علیہ السلام)کے متعلق یہ اختلاف ہے کہ وہ ولی ہیں یا نبی ۔قشیری کا قول ہے کہ وہ ولی ہیں اور صحیح یہ ہے کہ وہ نبی ہیں ثعلبی اور ابن جوزی وغیرہ کا بھی یہی مختار ہے اس کی دلیل یہ ہیکہ حضرت خضر(علیہ السلام)نے ایک لڑکے کو قتل کردیا اور فرمایا وما فعلتہ عن امری میں نے اپنی رائے سے یہ کام نہیں کیا اس میں دلیل ہیکہ انہوں نے وحی سے قتل کیا اور وحی کا تعلق نبوت سے ہے کسی شخص کو ناحق قتل کرنا حرام ھے اور حرمت صرف دلیل قطعی سے اٹھ سکتی ہے اگر حضرت خضر(علیہ السلام) ولی ہوتے اور الہام کے بنا پر اسکو کرتے تو یہ جائز نہیں۔
فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ فتاوی فیض الرسول جلد1صفحہ39پر ھے:
وہ نبی ہیں ۔حضرت علامہ امام رازی رحمت اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ وہ اکثر کے نزدیک نبی ہیں اور علامہ سلیمان جمل لکھتے ہیں صحیح یہ ہیکہ وہ نبی ہیں جیسا کہ تفسیر کبیر جلدخامس صفحہ514میں ھے قال الاکثرون ان ذلک العبد کان نبیا اور تفسیر جمل میں ہے اختلف فی الخضر اھو نبی او رسول او ملک او ولی و الصحیح انہ بنی

واللہ اعلم بالصواب
محمد ساجد رضا برکاتی جئےنگر
خطیب و امام سنی مسجد لہوار ضلع دربھنگہ بہار
18رجب 1442ھ 2مارچ 2021

الجواب صحیح
  • فقیر محمدعثمان رضوی خادم مرکزی دارالافتاوالقضاادارہ شرعیہ نیپال جنکپور وصدرالمدرسین دارالعلوم قادریہ علی پٹی شریف
  • محمد محبوب رضا مصباحی

منجانب : شرعی بورڈ آف نیپال