تفسیر، تاویل، تشریح میں کیا فرق ہے ؟



سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ تفسیر، تاویل ،تشریح میں کیا فرق ہے ؟
ناہید کشن گنج بہار

الجواب بعون الملک الوہاب :
تفسیر و تاویل کی تعریف اور ان میں فرق درج ذیل ہے :
وعرَّفه الزركشى بأنه: "علم يُفهم به كتاب الله المُنَزَّل على نبيه محمد صلى الله عليه وسلم وبيان معانيه، واستخراج أحكامه وحكمه".
وعرَّفه بعضهم بأنه: "علم يُبحث فيه عن أحوال القرآن المجيد، من حيث دلالته على مراد الله تعالى، بقدر الطاقة البشرية".
التأويل عند هؤلاء ( المتأخرين من المتفقهة، والمتكلمة، والمحدِّثة والمتصوِّفة ) جميعاً: هو صرف اللفظ عن المعنى الراجح إلى المعنى المرجوح لدليل يقترن به ۔
قال فى جمع الجوامع وشرحه: "التأويل حمل الظاهر على المحتمل المرجوح، فإن حُمِل عليه لدليل فصحيح، أو لما يُظَن دليلاً فى الواقع ففاسد، أو لا شيء فلعب لا تأويل". ( التفسير و المفسرون ، ج : 1 ص : 18 - 21 ملخصاً )
یعنی امام زرکشی نے یوں تعریف کی کہ تفسیر وہ علم ہے جس سے ہمارے آقا نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل کردہ اللہ کی کتاب ، اس کے معانی کا بیان اور اس کے احکام و حکمتوں کا فہم و ادراک حاصل ہو ۔
اور بعض نے یوں تعریف کی کہ تفسیر ایسا علم ہے جس میں انسانی طاقت کے مطابق قرآن مجید کے احوال کے بارے میں اس طرح بحث کی جائے کہ اس سے اللہ کی مراد حاصل ہو جائے ۔
متاخرین فقہا ، متکلمین ، محدثین اور صوفیا کے نزدیک کسی دلیل کے پیش نظر لفظ کےراجح معنی کو ترک کر کے مرجوح معنی مرادلینا تاویل ہے ۔
اور جمع الجوامع اور اس کی شرح میں فرمایا : ظاہر کو مرجوح معنی پر محمول کرنا تاویل ہے پھر اگر یہ حمل کسی دلیل کے سبب ہو تو تاویل صحیح ہے اور اگر ایسی چیز سے ہو جو دلیل سمجھا جائے تو تاویل فاسد ہے اور اگر بلا دلیل ہو تو عبث ہے تاویل نہیں ۔
اور تفسیر و تاویل میں فرق یہ بیان کیا جاتا ہے :
قال الراغب الأصفهانى: "التفسير أعم من التأويل، وأكثر ما يُستعمل التفسير فى الألفاظ، والتأويل فى المعانى، كتأويل الرؤيا. والتأويل يُستعمل أكثره فى الكتب الإلهية. والتفسير يستعمل فيها وفى غيرها. والتفسير أكثره يستعمل فى مفردات الألفاظ. والتأويل أكثره يستعمل فى الجمل .
قال أبو طالب الثعلبى: "التفسير بيان وضع اللفظ إما حقيقة أو مجازاً، كتفسير "الصراط" بالطريق، و "الصَيِّب" بالمطر. والتأويل تفسير باطن اللفظ...... فالتأويل إخبار عن حقيقة المراد، والتفسير إخبار عن دليل المراد
قال البغوى ووافقه الكواشى: "التأويل هو صرف الآية إلى معنى محتمل يوافق ما قبلها وما بعدها، غير مخالف للكتاب والسُّنَّة من طريق الاستنباط. والتفسير هو الكلام فى أسباب نزول الآية وشأنها وقصتها" بتصرف. وعلى هذا فالنسبة بينهما التباين.
قال بعضهم: "التفسير ما يتعلق بالرواية، والتأويل ما يتعلق بالدراية"، وعلى هذا فالنسبة بينهما التباين.
التفسير هو بيان المعانى التى تُستفاد من وضع العبارة، والتأويل هو بيان المعانى التى تُستفاد بطريق الإشارة. ( مرجع سابق ، ص : 22 - 23 )
یعنی امام راغب اصفہانی نے فرمایا : تفسیر تاویل سے عام ہے اور تفسیر کا استعمال اکثر الفاظ میں ہوتا ہے جب کہ تاویل کا استعمال معانی میں ہوتا ہے جیسا کہ خوابوں کی تاویل ۔ نیز تاویل کا استعمال کتب الٰہیہ میں ہوتا ہے جب کہ تفسیر کا استعمال کتب الٰہیہ اور دیگر میں بھی ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں تفسیر کا ستعمال مفردات میں ہوتا ہے اور تاویل کا جملوں میں ۔
امام ابو طالب ثعلبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔:
جس معنی کے لیے لفظ وضع کیا گیا ہو خواہ وہ حقیقی ہو یا مجازی ' اسے بیان کرنا'' تفسیر'' کہلاتا ہے جیسے صراط کی طریق سے اور صیب کی مطر سے تفسیر۔ اور کسی لفظ کے باطنی اور مخفی معنی کے واضح کرنے کو تاویل کہتے ہیں۔ لہٰذا مراد کی حقیقت کی خبر دینا تاویل اور مراد کی دلیل کی خبر دینا تفسیر ہے ۔
امام بغوی اور الکواشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
آیت سے ایسا معنی مراد لینا جس کی اس میں گنجائش ہوا ور وہ آیت کے سیاق وسباق کے مطابق ہو ' نیز قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو ' اسے ''تاویل '' کہتے ہیں۔اور کسی آیت کے سبب نزول اور واقعہ کے متعلقہ ذکر وبیان کو '' تفسیر'' کہتے ہیں ۔
بعض کے نزدیک تفسیر کا تعلق روایت سے ہے اور تاویل کا تعلق درایت سے ہے۔
بعض کے نزدیک جو مفہوم تر تیب عبارت سے حاصل ہو وہ تفسیر کہلائے گا اور جو مفہوم ترتیب عبارت سے اشارتا حاصل ہو وہ تاویل کہلائے گا۔

کتبہ
محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
28 جمادی الآخرہ 1442ھ مطابق 11 فروری 2021ء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے