اگر امام نماز جنازہ کے چاروں تکبیروں میں ہاتھ اٹھا لے تو نماز ہو گی کہ نہیں؟



سوال  : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر امام نماز جنازہ کے چاروں تکبیروں میں ہاتھ اٹھا لے تو نماز ہو گی کہ نہیں؟ مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں۔
محمد رضا ،سیتامڑھی

الجواب بعون الملک الوہاب :
اس مسئلہ میں فقہاے کرام کا اختلاف ہے کہ ہر تکبیر پر ہاتھ اٹھایا جائے یا صرف پہلی تکبیر پر ۔ ائمہ احناف کے نزدیک نماز جنازہ میں صرف پہلی تکبیر میں ہاٹھ اٹھانے کا حکم ہے بقیہ تکبیر میں ہاتھ نہ اٹھایا جائے ۔ حدیث پاک میں ہے :
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ عَلَی الْجَنَازَۃِ فِیْ اَوَّلِ تَکْبِیْرَۃٍ ثُمَّ لَایَعُوْدُ۔ (سنن الدار قطنی ،کتاب الجنائز، باب وضع الیمنی علی الیسریٰ الخ ، ح : 1832)
یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز جنازہ میں صرف پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔
دوسری روایت میں ہے :
عَنْ مُوْسیٰ بْنِ دِھْقَانَ قَالَ رَأیْتُ اَبَانَ بْنَ عُثْمَان یُصَلِّیْ عَلَی الْجَنَازَۃِ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِیْ اَوَّلِ التَّکْبِیْرَۃِ۔(جزء رفع الیدین للبخاری ، ص: 156 ، ح : 186)
یعنی موسی بن دہقان فرماتے ہیں : میں نے امیر مدینہ ابان بن عثمان کو دیکھا کہ انہوں نے نماز جنازہ پڑھایا، چار تکبیریں کہیں اور پہلی تکبیر میں رفع یدین کیا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، كَذَا فِي الْعَيْنِيِّ شَرْحِ الْكَنْزِ ۔
یعنی ظاہر الروایہ کے مطابق ( جنازہ میں ) صرف تکبیر اولیٰ اپنے ہاتھ اٹھائے ۔ اسی طرح عینی شرح کنز میں ہے ۔
صرف پہلی رکعت میں ہاتھ اٹھانے کی علت بدائع الصنائع میں یہ بیان کی گئی ہے :
وَعَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا قَالَا : لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِيهَا إلَّا عِنْدَ تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ ؛ لِأَنَّ كُلَّ تَكْبِيرَةٍ قَائِمَةٌ مَقَامَ رَكْعَةٍ ، ثُمَّ لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَائِرِ الصَّلَوَاتِ إلَّا عِنْدَ تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ عِنْدَنَا فَكَذَا فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ ۔ (بدائع الصنائع / باب کیفیۃ الصلاۃ علی الجنازۃ ، ج : 2 ، ص: 299)
یعنی حضرت علی المرتضیٰ اور عبد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نماز میں ہاتھ نہ اٹھائے سوائے تکبیر افتتاح کے وقت اس لیے کہ ہر تکبیر ایک رکعت کے قائم مقام ہے پھر احناف کے نزدیک تمام نمازوں میں تکبیر افتتاح کے علاوہ میں ہاتھ نہیں اٹھایا جاتا تو نماز جنازہ میں بھی اسی طرح ہوگا ۔
درج بالا باتوں سے ظاہر ہوا کہ نماز جنازہ میں پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھایا جائے لیکن اگر کوئی امام ہر تکبیر میں ہاتھ اٹھا لے تو نماز ہو جائے گی لیکن ترک سنت کے سبب خلاف سنت اور مکروہ ہوگی ۔ فتاویٰ فیض الرسول میں ہے :
( نماز جنازہ میں چاروں تکبیر میں ہاتھ اٹھانے سے ) نماز ہو جائے گی لیکن ایسا کرنا خلاف سنت اور مکروہ ہے ۔ ( فتاویٰ فیض الرسول ، ج : 1 ، ص: 444) و اللہ تعالیٰ اعلم ۔


کتبہ
محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
24 / ربیع الثانی 1442ھ مطابق 10 / دسمبر 2020ء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے