جمعہ اور جمعہ کی تقریر

جمعہ اور جمعہ کی تقریر


جمعہ اور جمعہ کی تقریر


قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ وَ ذَرُوا الْبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمْ خَیۡرٌ لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ

ترجمہ: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ  کے ذکر کی طرف دوڑو  اور خرید و فروخت چھوڑ دو  یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔  )ترجمہ کنز الایمان، سورۃ الجمعہ آیت: ۹، پ: ۲۸(

جمعہ کا لفظ جمع سے ماخوذہےجس کےمعنی ہیں جمع ہونا ،اکٹھا ہونا چونکہ اس دن مسلمان بڑی مساجد میں جمع ہوکر دوگانہ ادا کرتے ہیں اس لیے اس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ پہلے اس دن کو یوم العروبہ کہا جاتا تھا۔سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد حضرت کعب بن لؤی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس دن کا نام یوم الجمعہ رکھا لیکن اس نام کو شہرت نہ ہوئی۔

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے اور سورۃ الجمعہ کے نازل ہونے سے پہلے اہل مدینہ نے دیکھا کہ یہود سنیچر کو اور نصاری اتوار کو جمع ہوکر عبادت کرتے ہیں ، لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہفتہ میں کوئی دن مقرر کریں جس دن سب چھوٹے بڑے اکٹھا ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت کریں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اس اجتماع کے لیے عروبہ کا دن منتخب کیا اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ یہ پہلا جمعہ تھا جو ادا کیا گیا ۔ انصار(اہل مدینہ) نے اپنے اس اجتماع کی بنیاد پر اس دن کا نام یوم الجمعہ رکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الجمعہ کے ذریعہ اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی بنو سالم میں دوگانہ کے ذریعہ ان کے اس اجتہاد پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ اس وقت سے اس دن کا نام یوم العروبہ سے یوم الجمعہ ہوگیا اور پھر اسی نام کو مقبولیت عام اور شہرت دوام حاصل ہوئی۔   (ضیاء القرآن، خزاین العرفان سورۃ الجمعہ)

احادیث مبارکہ میں یوم الجمعہ کی بے انتہا فضیلتیں وارد ہیں ۔ اس دن کو سید الایام بھی کہا جاتا ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن ان کی وفات ہوئی اور اسی دن صور بھی پھونکا جائے گا۔ اس دن مرنے والے کو اللہ تعالیٰ شہید کا ثواب عطا فرماتا ہے اور فتنہ قبر سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی لیے جمعہ پوری امت مسلمہ کے لیے عید اور خوشی کا دن ہے۔اس  دن لوگ نہا دھوکر عمدہ لباس زیب تن کرتے ہیں اور مسجدوں میں حاضر ہوکر  عبادت کے ساتھ اپنے علما سے کچھ دینی باتیں سننے کی بھی خواہش رکھتے ہیں۔

مقاصد جمعہ سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کو یکجا کرکے دین کی باتیں بتائی جائیں اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوگانہ ادا کرنے سے پہلے اپنی امت سے خطاب فرماتے اور دین کی اہم اور ضروری باتیں بتاتے تھے۔ اسی سنت کو زندہ رکھنے کے لیے آج بھی دوگانہ سے پہلے عربی میں خطبہ پڑھا جاتا ہے جو کہ جمعہ کی شرط ہے۔ لیکن ہند و نیپال میں  عربی زبان سے لوگوں  کی عدم واقفیت کی وجہ سے  اردو یا علاقائی زبانوں میں بھی قبل خطبہ یا بعد جمعہ خطاب کیا جاتا ہے تاکہ تکمیل مقصد ہوسکے۔

جمعہ میں عموماً سنجیدہ  ماحول ہوتا ہے، ہر خاص و عام حاضر ہوتے ہیں اور جلسے جلوس کی بہ نسبت  جمعہ کی تقریر لوگ  بغور سماعت بھی  کرتے ہیں۔ہند و نیپال میں  تقریباً ہر جمعہ میں تقریریں ہوتی ہیں  اور اکثر تقریر کرنے والے چہرے بھی مخصوص اور متعین ہوتے ہیں پھر بھی لوگوں کا تقریر سننے کی غرض سے نماز سے پہلے حاضر ہونااور  دلجمعی و سنجیدگی کے ساتھ  تقریر سننا اس کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن کچھ مقرر صفت  حضرات اپنی شعلہ بار اور برق بار تقریروں سے  اس پرسکون اور  ساز گار ماحول کو بھی مروجہ جلسوں کے  ماحول میں  بدلنے  کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کی بارگاہ میں مودبانہ و مخلصانہ گذارش ہے کہ اللہ کے واسطے   جمعہ کے منبر  کو مروجہ جلسوں کا اسٹیج ہرگز نہ بنائیں ورنہ ہماری مسجدیں  نصیحت گاہ اور درس  گاہ کی بجاے آج کل کے جلسوں کا مجمع ہو جائیں  گی۔جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ  ہماری مسجدوں میں اقیموا الصلاۃ کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ قال اللہ و قال الرسول کی دل نشیں صدائیں بھی بلند کی جاتی  رہی ہیں۔

جن مساجد میں  جمعہ کے دن   سنجیدہ اور اصلاحی تقریر یں ہوتی ہیں   وہاں کی مسجدیں  درس گاہ اور  نمازیوں  کی سنجیدگی و محویت باذوق طالب علم کی یاد تازہ کرتی رہتی ہے۔آج بھی ہمارے بہت سے ایسے مسلمان بھائی ہیں جن کو  نماز و روزہ وغیرہ دین کے مسائل کا  مکمل علم  نہیں اور درازگی عمر کی وجہ سے علما سے چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھنے میں جھجھک محسوس کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمارے علماے کرام اور ائمہ مساجد کو ایک مشفق استاد کی مانند اپنی  جمعہ کی تقریر کے ذریعہ ان کو وضوو غسل اور  نماز روزہ وغیرہ کے  بینادی مسائل سکھانا چاہیے۔اس طرح ہم جمعہ کی تقریر کو تفہیم مسائل کے لیے ایک مفیداور موثر ذریعہ  بنا سکتے ہیں۔ہمارے کچھ ائمہ حضرات اپنی مسجدوں میں اس طرح کی کوششیں کررہے ہیں جو یقیناً تعریف اور تقلید کے قابل ہیں اور ہم سب کو بھی اپنی اپنی مسجدوں میں یہ سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔

اسی طرح جمعہ کو دعوت و تبلیغ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم اور ابھرتے فتنے کی سرکوبی کے لیے ایک ہتھیار کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے کیوں کہ جمعہ میں اکثر وبیشتر  ہر کسی کی شرکت ہوہی جاتی ہےساتھ ہی  تقریر سننے اور سمجھنے کا بھی  ایک عمدہ مزاج بنا رہتا ہے اس لیے ائمہ مساجد کو چاہیے کہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور  عوام کے اس مزاج کو بنائے رکھیں اور اپنی جمعہ کی تقریر کے ذریعہ لوگوں کے اعمال اور عقائد کی اصلاح کرتے رہیں۔

عرب کے بعض ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ وہاں کی ساری مسجدوں میں جمعہ کا خطبہ حکومت یا حکومت کی اجازت سے بنی علما کی تنظیموں کی  جانب سے تیار ہوکر جاتا ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب انھیں کوئی اہم اعلان کرنا ہوتا ہے یا مسلمانوں تک  کوئی پیغام پہنچانا ہوتا ہے تو  وہ اس اعلان یا پیغام کو  جمعہ کے خطبہ میں شامل کردیتے ہیں اور وہ پیغام فی الفورتمام مسلمانوں تک آسانی کے ساتھ پہنچ جاتا ہے۔ لیکن ہند و نیپال میں نہ تو مسلمانوں کی  حکومت ہے نہ کوئی ملکی پیمانے کی ایسی تنظیم جس کی اچھی پکڑ ہو۔ پھر بھی اگر ہمارے علماے ذوی الاحترام اس طرف اپنی توجہ مبذول کریں تو ملکی پیمانے پر نہ سہی کم سے کم علاقائی سطح پر پیغام رسانی کے لیے جمعہ کے خطاب کو بروئے کار لایاجا سکتا ہے ۔ مثلا مسلمانوں پر ہو رہے مظالم یا شریعت میں حکومت کی مداخلت  کے خلاف پر امن مظاہرہ کرنا ہو یا سماجی و رفاہی کام کرنے کے لیے لوگوں کی تعداد کی ضرورت ہو تو ائمہ مساجد جمعہ کی تقریر میں اس کی اہمیت اور ضرورت کو  بیان کریں اور پھر لوگوں سے شرکت کی اپیل کریں۔ ان شاء اللہ اس کا اچھا اثر ہوگا اور ساتھ ہی مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا بھی قائم ہوگی۔

مذکورہ بالا جمعہ کی تقریر کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر علماے کرام اور ائمہ مساجد کو چاہیے کہ اس کو مزید مفید و موثر بنانے کے لیے ہر ممکن صورت اختیار کریں۔ اگر ہمارے علما و ائمہ حضرات درج ذیل چند باتوں کی  رعایت  فرمالیں تو جمعہ کی تقریر کی افادیت دوبالا کی جا سکتی ہے۔

سنجیدہ بیانی :     فہم و فراست رکھنے والے تعلیم یافتہ اور ذی ہوش لوگ متانت و سنجیدگی سے کی جانی والی باتوں میں دلچسپی لیتے ہیں اور کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ شعلہ بار تقریروں کا مقصد چیخ و پکار میں دب کر رہ جاتا ہے اور ان سے کچھ سیکھنا تو دوران کو  سمجھنا بھی مشکل ہوتا  ہے۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو جمعہ کے بیان میں متانت و سنجیدگی ہی سے کام لیں۔ آپ ذرا غور کیجیے ، جب ہمیں کوئی اہم اعلان کرنا ہوتا ہے یا کوئی ضروری بات بتانی ہوتی ہے تو ہم سنجیدگی سے لوگوں کے سامنے  اعلان کرتے ہیں اور اپنی باتیں رکھتے ہیں تاکہ سب لوگ سن سکیں  اور سمجھ سکیں۔ پھر ہم دینی باتیں  بتانے اور مسائل کو سمجھانے میں چیخ و پکار کا سہارا کیوں لیتے ہیں ؟؟؟ہاں ! البتہ کبھی کبھار  مسلمانوں کے ذہن و فکر کو جھنجھوڑنا اور ان میں  جوش و ولولہ  بیدار کرنا مقصود ہو تو ایک معقول  حد تک ولولہ انگیزی کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ لیکن مسائل  سے لے کر فضائل تک  اور اصلاح سے لے کر تردید تک بے ہنگم چیخ و پکار قطعی مناسب نہیں۔اس لیے جہاں تک ممکن ہو جمعہ میں سنجیدہ بیانی ہی سے کام لیں ۔

آسان لب و لہجہ :    مسلمانکتنے تعلیم یافتہ ہیں یہ   ہمیں بخوبی معلوم ہے اس کے باوجود ہم میں سے اکثر لوگ اپنی تقریروں میں مشکل اصطلاحات اور سخت الفاظ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب تک مسجع و مقفیٰ  جملوں سے لیس گاڑھی اردو نہ بولی جائے تقریر مکمل نہیں ہوگی، یہ ہماری سخت بھول ہے۔ کیوں کہ تقریر کرنے کا مقصد ہوتا ہے کہ لوگ ہماری باتوں کو سمجھ سکیں اور ان سے  کچھ سیکھ سکیں اور جب انہیں کچھ سمجھ میں ہی نہیں آئے تو پھر ان کے سامنے گھنٹوں گلا پھاڑنے سے کیا فائدہ؟ اس لیے  ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تقریر میں آسان لب ولہجہ کا استعمال کریں اور سامعین کا خاص خیال فرمائیں۔

وقت کی پابندی:       یاد رہے جمعہ کے  دن  دو رکعت فرض  کی ادائگی اصل مقصد ہے  اس لیے تقریر اتنی لمبی نہ کریں   کہ نماز کے لیے تاخیر ہو جائے بلکہ وقت رہتے ہوئے اپنی باتیں پوری کرنے کی کوشش کریں  اور  اگر موضوع طویل ہوتوباقی  اگلے جمعہ کے لیے رہنے دیں لیکن وقت کی پابندی ضرور کریں۔ کیوں کہ اکثر لوگ صبح سے جمعہ کی تیاری میں لگے رہتے ہیں اور اپنے ضروری کاموں کو بعد جمعہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔  اسی طرح جمعہ میں اسکولی بچے، مزدور، سرکاری نوکری والےاور دکاندارقسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے پاس محدود وقت ہوتا ہے اس لیے ان سب کا خیال فرماتے ہوئے جمعہ نماز کی جماعت کا وقت متعین رکھیں اور اسی مقررہ وقت میں لازمی طور پر  بیان ختم کرکے جماعت کھڑی کردیں۔

موضوع کا انتخاب اور مواد کی فراہمی:  جمعہ کی تقریر کے لیے  موضوع کا انتخاب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ چوں کہ ہمارے ائمہ مساجد کو  ہر جمعہ میں تقریر کرنی پڑتی ہے اس لیے اکثر لوگ ماہ رواں کی مناسبت سے زیادہ تر   واقعات و حکایات بیان کرنے  کو ترجیح دیتے ہیں   حالاں کہ ان کو مکمل ایک ہفتہ کا وقت ملتا ہے پھر بھی بہت سے لوگ مواد کی فراہمی میں کاہلی اور تن آسانی  سے کام لیتے ہیں اور مطالعہ کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ جمعہ کی تقریر کو موثر بنانے کے لیے وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق مناسب موضوع کا انتخاب اور  موضوع کے مطابق بھرپور مواد از حد ضروری ہے۔ سوشل میڈیا اور اخبار بینی کا ذوق رکھنے والے ائمہ کے لیے مناسب موضوع کا انتخاب کوئی مشکل امر نہیں ہے اور مواد کی فراہمی کے لیے  ایک ہفتہ کا وقت کافی  ہے۔ اس لیے ائمہ حضرات کو چاہیے کہ وقت اورحالات کے اعتبار سے موضوع کا انتخاب کریں اور موضوع کے مطابق کتابوں کا مطالعہ کریں۔

کہیں کہیں متولیان مساجد ائمہ کرام  کو پابند کرنے لگے ہیں کہ آپ فلاں عنوان پر تقریر کریں اور فلاں عنوان پر تقریر  نہ کریں۔ مثلا  اگر گاوں، سماج یا محلے میں سود خوری عام ہوتی جا رہی ہے یا کوئی خلاف شرع رسم و رواج فروغ پا رہا ہے اور اس گناہ میں اراکین و ممبران میں سے کوئی ملوث ہے تو اب امام صاحب کا سود خوری اور ان غلط رواج کے خلاف تقریر کرنا جرم قرار پاتا ہے اور کبھی کبھی اس کی پاداش میں ائمہ حضرات کو بر طعف بھی کر دیا جاتا ہے۔یہ کس قدر افسوس کی بات ہے ، اس کا درد تو دین کی غیرت و حمیت رکھنے والا ایک مسلمان ہی محسوس کر سکتا ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ آج کل اکثر مساجد میں من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ اور فضائل پر زیادہ تقریریں سننے کو ملتی ہیں۔  ائمہ کرام اور علماے ذوی الاحترام کو چاہیے کہ ایسے جاہل اور دشمن دین کی پرواہ کیے بغیر اسلامی احکام اور شرعی باتوں کو  بلا خوف و خطر بیان کریں اور عوام الناس کو خلاف شرع کاموں سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔

جمعہ کے لیے مخصوص خطیب:  ایسا بھی مشاہدہ ہے کہ  بعض مساجد کے ائمہ یا تو بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے یا ان کے اندر کماحقہ تقریری صلاحیت نہیں ہوتی ایسی صورت میں ذمہ داران مساجد کو چاہیے کہ جمعہ کے لیے ایک مخصوص خطیب کا بندو بست  کریں اس کے لیے  علاقے کے موثر اور سنجیدہ بیاں  قابل عالم دین کو اپنی مسجدوں میں جمعہ کے لیے دعوت دیں اور ان سے خطاب  کروائیں۔ تاکہ جمعہ کی تقریر سے لوگوں کو خاطر خواہ  فائدہ پہونچے اور ان کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہو سکے۔

جمعہ کی تقریر کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر مذکورہ باتوں کی جانب توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ کیوں کہ    جمعہ مسلمانوں کے لیے عید ہے  تو جمعہ کی تقریر ان کے لیے ایک انمول تحفہ ہے اور اس تحفہ کو عمدہ بناکر پیش کرنے کی کوشش کرنا ائمہ کرام اور متولیان مساجد کے ساتھ اہل علم و دانش کا دینی و ملی فریضہ ہے۔

 

عبد الرحیم ثمر مصباحی

خادم مدرسہ عین الھدی،دلانی پور

پورٹ بلیئر جزیرہ اَنڈمان نیکوبار المعروف بہ کالا پانی، ہند

 

 

  

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے