گورنمنٹ کے پیسے سے مسجد بنانا جائز ہے ؟

 حکومت کے پیسے سے مسجد کی تعمیر کرنا




کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارےمیں کہ نیپال میں گورنمنٹ کا دیا ہوا پیسہ سےمسجد بنا سکتے ہیں یا نہیں؟

المستفتی محمد محبوب رضا مصباحی، نواکھورپرساہی، دھنوشا، نیپال

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حکومت کے فنڈ میں جو مال ہوتے ہیں، اس میں ملک کے تمام اقوام کا حق ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اگر مسلمانوں کو تعمیر مسجد کے لیے فنڈ ملتا ہے تو یہ مسلمانوں کا حق ہے؛ اس لیے اگر کوئی مصلحت شرعیہ مانع نہ ہو تو اس فنڈ کا لینا بلاشبہ جائز ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: خزانہ والی ملک کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا تو اس کے لینے میں حرج نہیں جب کہ کسی مصلحت شرعیہ کا خلاف نہ ہو۔ ( فتاوی رضویہ، ج: 16،ص: 467)

اسی میں ہے: گورنمنٹ اگر اپنے پاس سے امداد کرتی ہے بلاشبہ اس کا لینا جائز تھا اور اس کا قطع کرنا حماقت، خصوصا جب کہ اس کے قطع سے مدرسہ نہ چلے کہ اب یہ سد باب خیر تھا اور مناع للخیر پر وعید شدید وارد ہے، نہ کہ جب وہ امداد بھی رعایا ہی کے مال سے ہو، اب دوہری حماقت بلکہ دونا ظلم ہے کہ اپنے مال سے اپنے دین کو نفع پہنچانا بند کیا اور جب وہ مدارس اسلامیہ میں نہ لیا گیا گورنمنٹ اپنے قانون کے مطابق اسے دوسرے مدارس غیر اسلامیہ میں دے گی تو حاصل یہ ہوا کہ ہمارا مال ہمارے دین کی اشاعت میں صرف نہ ہو بلکہ اور کسی دین باطل کی تائید میں خرچ ہو کیا کوئی مسلم عاقل اسے گوارا کرسکتاہے۔ ( ایضا، ج: 21، ص: 249-250)

محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی فرماتے ہیں: سرکاری فنڈ میں مسلمانوں کا بھی حق ہے، اس لیے مکھیا سرکاری فنڈ سے جو سولر لائٹ دے رہا ہے وہ مسلمانوں کا حق ہے، مسلمان اسے اپنا حق سمجھ کر لے لیں، پھر اپنی طرف سے مسجد میں لگا دیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔

حاصل یہ کہ حکومتی فنڈ سے تعمیر مسجد کے لیے جو امداد مل رہی ہے، وہ مسلمانوں کا اپنا حق ہے، اس سے مسجد کی تعمیر کر سکتے ہیں واللہ تعالی اعلم

 

کتبہ

محمد اظہارالنبی حسینی

رکن شرعی بورڈ آف نیپال

و مدرس دارالعلوم قادریہ مصباح المسلمین، علی پٹی شریف

3/ رمضان المبارک 1442ھ مطابق 17/ اپریل 2021ء

الجواب صحیح

محمد محبوب رضا مصباحی

خادم شرعی بورڈ آف نیپال

الجوابصحیح وصواب

فقیر محمدعثمان رضوی خادم مرکزی دارالافتاو القضاادارہ شرعیہ نیپال جنکپور وصدرالمدرسین دارالعلوم قادریہ علی پٹی شریف

منجانب:  شرعی بورڈ آف نیپال


Post a Comment

1 Comments

Emoji
(y)
:)
:(
hihi
:-)
:D
=D
:-d
;(
;-(
@-)
:P
:o
:>)
(o)
:p
(p)
:-s
(m)
8-)
:-t
:-b
b-(
:-#
=p~
x-)
(k)