سوال : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال: کیافرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ کیالڑکیاں حالت حیض میں درسی کتابیں پڑھ اورپڑھاسکتی ہیں یانہیں قران وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکرعنداللہ ماجورہوں
المستفتی ،،حافظ محمداشرف رضاقادری جبل پور ایم پی معرفت مولانااسرائیل رضوی فیضی گلاب پوری
الجواب بعون الملک الوھاب
لڑکیاں حالت حیض میں درسی کتابیں پڑھ سکتی ہیں البتہ اگر درمیان میں کسی جگہ کوئی آیت لکھی ہو تو اسے تلفظ کے ساتھ پڑھنے اور چھونے کی اجازت نہیں۔ جیساکہ فتاوی' شامی میں ہے: " و فى السراج عن الايضاح: ان كتب التفسير لا يجوز من موضع القرآن منها، وله ان يمس غيره، و كذا كتب الفقه اذا كان فيها شئ من القرآن "
ترجمہ: اور " السراج " میں " الايضاح " کے حوالہ سے ہے کہ کتب تفسیر کو قرآن والی جگہ سے چھونا جائز نہیں ہے اور اس کے علاوہ جگہ سے چھونا جائز ہے۔ اسی طرح کتب فقہ کا حکم ہے جب ان میں قرآن میں سے کوئی چیز ہو۔ ( فتاوی' شامی ج ١ ص ٤٠٧ / كتاب الطهارت)
اسی طرح لڑکیاں حالت حیض میں درسی کتابیں بھی پڑھا سکتی ہیں۔ البتہ اگر وہ قرآن پاک کی تعلیم دے رہی ہیں یا ناظرہ پڑھا رہی ہیں تو ایسی صورت میں قرآن مجید کی تعلیم دینے والی عورتوں کو حالت حیض میں دوران تعلیم قرآن کریم کو ایک ایک کلمہ یا ہجے کراکر پڑھنے یا طالبات کو سمجھانے کی بوجہ عذر اجازت ہے۔ چنانچہ تبیين الحقاٸق میں ہے: " علم القرآن حرفا حرفا فلا بأس به باالاتفاق لاجل العذر "
ترجمہ: اگر قرآن ایک ایک کلمہ پڑھائے تو بوجہ عذر باتفاق ائمہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ( تبیین الحقاٸق، کتاب الطہارت ج ١ ص ١٦٥/ فتاوى' علميه ج ١ ص ٩٩)
مزید تفصیل کے لئے حضور اعلی'حضرت علیہ الرحمہ کا رسالہ " ارتفاع الحجب عن وجوه قرأة الجنب " کا مطالعہ کریں۔
و الله تعالى'اعلم
_____
کتبہ
محمد قیصر علی رضوی مصباحی
خادم امجدی دارالافتاء ڈربن ساؤتھ
رکن شرعی بورڈ آف نیپال
٢٣ رجب ١٤٤٢ھ
مطابق 7/03/2021
الجواب صحیح والمجیب نجیح ومصیب ومثاب
- فقیر محمدعثمان رضوی خادم مرکزی دارالافتاوالقضاادارہ شرعیہ نیپال جنکپور وصدرالمدرسین دارالعلوم قادریہ علی پٹی شریف
- محمد نعیم الدین قادری گلابپوری
- محمد محمود اختر مصباحی شہر مفتی راے بریلی
- محمداسرائیل رضوی فیضی گلاف پوری
- محمد محبوب رضا مصباحی
منجانب : شرعی بورڈ آف نیپال
Social Plugin