اگر جنازہ دفن کردیا گیا بغیر نماز جنازہ پڑھے توکتنے دنوں تک نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے ؟




سوال : کیا فرماتے ہیں علماۓ دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں اگر جنازہ دفن کردیا گیا بغیر نماز جنازہ پڑھے توکتنے دنوں تک نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا
المستفتی محمد جبرئیل لادو بیلا واڑ نمبر 23 جنکپور نیپال

الجواب بعون الملک الوہاب :
اگر بغیر نماز جنازہ پڑھے میت دفن کر دیا گیا تو جب تک میت کے پھولنے اور پھٹنے کا غالب گمان نہ ہو جائے تب تک نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں اصح یہی ہے اور اسی پر فتویٰ ہے اگر چہ بعض فقہاے کرام نے تین دن اور دس دن کی قید لگائی ہے ۔ در مختار اور رد المحتار میں ہے :
(وَإِنْ دُفِنَ) وَأُهِيلَ عَلَيْهِ التُّرَابُ (بِغَيْرِ صَلَاةٍ) أَوْ بِهَا بِلَا غُسْلٍ أَوْ مِمَّنْ لَا وِلَايَةَ لَهُ (صُلِّيَ عَلَى قَبْرِهِ) اسْتِحْسَانًا (مَا لَمْ يَغْلِبْ عَلَى الظَّنِّ تَفَسُّخُهُ) مِنْ غَيْرِ تَقْدِيرٍ هُوَ الْأَصَحُّ.
اسی کے تحت رد المحتار میں ہے :
(قَوْلُهُ هُوَ الْأَصَحُّ) لِأَنَّهُ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْأَوْقَاتِ حَرًّا وَبَرْدًا وَالْمَيِّتِ سِمَنًا وَهُزَالًا وَالْأَمْكِنَةِ بَحْرٌ، وَقِيلَ يُقَدَّرُ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَقِيلَ عَشَرَةٍ، وَقِيلَ شَهْر ۔ ( در مختار مع رد المحتار ، ج : 2 ، ص : 224 )
یعنی اور اگر میت نماز جنازہ کے بغیر دفن کر دیا گیا اور اس پر مٹی ڈال دی گئی یا بغیر غسل کے نماز جنازہ کے ساتھ دفن کر دیا گیا یا غیر ولی نے نماز پڑھائی تو جب تک اس کے پھٹ جانے کا غالب گمان نہ ہو ایام کی تحدید کے بغیر اس کی قبر پر نماز پڑھی جائے گی خلاف قیاس اور یہی اصح ہے ۔
( مصنف کا قول : ھو الصح ) اس لیے کہ پھولنے پھٹنے کی کیفیت موسم سرما و گرما ، میت کے فربہ اور ناتواں اور مکانات کے اختلاف سے مختلف ہوتی ہے ۔ اور کہا گیا کہ تین سے کے ساتھ مقدر ہے ، یہ بھی کہا گیا کہ دس دن اور مہینہ دن بھی کہا گیا ۔
درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے :
( وَإِنْ دُفِنَ بِلَا صَلَاةٍ صُلِّيَ عَلَى قَبْرِهِ مَا لَمْ يُظَنَّ تَفَسُّخُهُ ) وَالْمُعْتَبَرُ فِيهِ أَكْبَرُ الرَّأْيِ عَلَى الصَّحِيحِ لِأَنَّهُ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ وَالْأَشْخَاصِ ۔ ( درر الحکام شرح غرر الاحکام ، ج : ، ص : 165)
یعنی اور اس پر نماز پڑھے بغیر اسے دفنادیا تو اس کی قبر پر نماز پڑھی جائے گی جب تک اس کے پھولنے پھٹنے کا گمان نہ ہو اور اس میں اعتبار صحیح قول پر اکبر رائے کا ہے کیونکہ میت کا پھول پھٹ جانا وقت جگہ اور افراد کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے
بہار شریعت میں ہے :
میِّت کوبِغیرنَماز پڑھے دفن کر دیا اورمِٹّی بھی دے دی گئی تو اب اس کی قَبْر پر نَماز پڑھیں جب تک پھٹنے کا گمان نہ ہو، اور مِٹّی نہ دی گئی ہو تو نکالیں اور نَماز پڑھ کر دفن کریں، اور قَبْر پرنَماز پڑھنے میں دنوں کی کوئی تعداد مقرَّر نہیں کہ کتنے دن تک پڑھی جائے کہ یہ موسِم اور زمین اور میِّت کے جسم و مَرَض کے اِختِلاف سے مختلف ہے، گرمی میں جلد پھٹے گا اور جاڑے (یعنی سردی) میں بدیر (یعنی دیر میں ) تر (یعنی گیلی) یا شور (یعنی کھاری) زمین میں جلد خشک اور غیرِ شَور میں بدیر، فَربہ (یعنی موٹا) جسم جلد لاغر (یعنی دُبلا پتلا) دیر میں ۔ (بہار شریعت ، ج : 1 ، ح : 4 ، ص : 840 ) و اللہ تعالیٰ اعلم



کتبہ
محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
رکن شرعی بورڈ آف نیپال
04 رجب المرجب 1442ھ مطابق 17 فروری 2021ء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے