چمڑے کا بیلٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

چمڑے کا بیلٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

چمڑے کا بیلٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
چمڑے کا بیلٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟


کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ
چمڑے کا بیلٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے کیوں کہ اس بیلٹ کے اندر لوہے اور تانبہ لگا ہوا رہتا ہے تو کیا اسے پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
المستفتی محمد انوارالحق امجدی، مقام ملہنیاں، ضلع دھنوشا، نیپال
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ:
کسی پاک چمڑے سے بنے بیلٹ باندھ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے۔ جب کہ کپڑے کو پینٹ میں اِن نہ کیا ہو کہ ایسی صورت میں نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔ امام اہل سنت سے سوال ہوا کہ کمر میں پٹکا باندھ کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
آپ نے جواب ارشاد فرمایا: درست ہے مگر دامن اس کے نیچے نہ دبے۔ ( عرفان شریعت، ص: 13)
بیلٹ میں لوہے یا تانبہ کا لگے ہونے سے کوئی حرج نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے چشمہ کا ڈائل جو لوہا یا تانبہ اور بعض اوقات پلاسٹک کا ہوتا ہے، اسی طرح فیتے والی گھڑی کا ڈائل اور جیکٹ میں لگے چین اور لوہے وغیرہ، فتاوی امجدیہ میں ہے: اگر گھڑی چمڑے کے تسمہ یا فیتہ سے بندھی ہو تو باندھ کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ( فتاوی امجدیہ، ج: 1، ص: 197)
حاصل یہ کہ پاک چمڑے سے بنے بیلٹ باندھ کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطے کہ کپڑا پینٹ میں اِن کیا ہوا نہ ہو۔ واللہ تعالی اعلم

کتبہ
محمد اظہارالنبی حسینی
مدرس دارالعلوم قادریہ مصباح المسلمین، علی پٹی شریف
23/ رمضان المبارک 1442ھ مطابق 7/ مئی 2021ء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے