سوشل میڈیا اور نوجوان علما: مثبت کام اور ذمہ داریاں

 


سوشل میڈیا اور نوجوان علما: مثبت کام اور ذمہ داریاں

تحریر: ثمر مصباحی

اسلامک اسکالر ، ایپ ڈیولوپر، نیپال

موجودہ دور "انفارمیشن ٹیکنالوجی" کا دور ہے، جہاں سوشل میڈیا محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ افکار و نظریات کی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں ہم نوجوان علما کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج اس ڈیجیٹل دنیا میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے ہمارا متحرک ہونا وقت کی اہم پکار ہے۔ اگر اب بھی ہم علما خاموش رہے، تو یاد رکھیں کہ باطل قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری نئی نسل کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتی رہیں گی اور ہم محض خاموش تماشائی بنے رہ جائیں گے۔ اس سلسلے میں نوجوان علما کے لیے چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں، امید ہے کہ توجہ فرمائیں گے۔

1.   سب سے پہلے تو ہم نوجوان علما کو چاہیے کہ جتنی جلدی ہو سکے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو جائیں اور گرافکس اور ویڈیو ایڈیٹنگ جیسے فنون سیکھ کر اسلام کے پیغام کو خوبصورت انداز میں پیش کریں۔ آج کے دور میں یہ فنون سیکھنا بھی دین کی خدمت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔  

2.   آج سوشل میڈیا ہمیں ایسے مواقع فراہم کرتا ہے جو ماضی میں میسر نہ تھے۔ اب ایک عالمِ دین مسجد کے منبر سے نکل کر پوری دنیا کے انسانوں تک بآسانی اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اور فیس بک، یوٹیوب و انسٹاگرام کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی اصلاح کر سکتا ہے۔ لہٰذا، تبلیغِ دین کے اس عالمی پلیٹ فارم کا ہمیں بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔ساتھ ہی ہم  یہ  بھی یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا ایک دلدل بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کا استعمال ضرورت ہی  کے تحت کریں،  ایسا نہ ہو کہ لایعنی بحثوں میں ہمارا قیمتی وقت ضائع ہو جائے۔

3.   عالم کی زبان یا قلم سے نکلی ہوئی بات سند مانی جاتی ہے، اس لیے ہمیشہ مستند حوالہ جات کا سہارا لیں اور سنی سنائی باتوں و ضعیف روایات سے لازمی بچیں۔ ساتھ ہی  سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی جھوٹی خبروں، من گھڑت واقعات اور فرقہ وارانہ افواہوں کی فوری علمی تردید کریں تاکہ عام مسلمان گمراہ نہ ہوں۔

4.   خشک لہجے کے بجائے محبت، ہمدردی اور جدید مثالوں کے ذریعے بات سمجھائیں تاکہ نوجوان نسل متاثر ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ذہن نشیں کر لیں کہ ہمارا اخلاق ہی ہماری سب سے بڑی تبلیغ ہے، اس لیے ہمیں بحث و مباحثہ میں گالی گلوچ، طنز اور سخت کلامی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔

5.   مثبت کام کرنے والے علما کے ساتھ حسد اور جلن کی بجائے  تعاون کا رویہ رکھیں اور ہم خیال اور مثبت سوچ رکھنے والے دیگر علما اور انفلوئنسرز کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ حق کی آواز زیادہ دور تک پہنچے۔

6.   آج کل لوگ طویل ویڈیوز کے بجائے مختصر کلپس (Reels/Shorts) دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ اپنی بات کو 1 سے 2 منٹ کے پر اثر کلپس میں بیان کرنے کی عادت ڈالیں۔

7.   صرف اردو تک محدود نہ رہیں، اگر آپ انگریزی یا ہندی  جانتے ہیں تو اس میں بھی مواد تیار کریں تاکہ پیغام کا دائرہ وسیع ہو۔

8.   اپنی گفتگو میں "سائنس"، "سائیکالوجی" اور "فلسفہ" کی جدید اصطلاحات کا استعمال کریں تاکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ آپ کی بات کو اہمیت دے۔

9.   کبھی بھی کسی کی نجی زندگی کو اپنی پوسٹس کا موضوع نہ بنائیں اور  دوسروں کے عیبوں کی تشہیر سے بچیں ۔ اسی طرح اپنی ذاتی زندگی کی ہر چھوٹی بڑی بات شیئر کرنے سے بچیں تاکہ عالمِ دین کا وقار اور رعب قائم رہے۔

10.                  سوشل میڈیا پر "لائیو مناظروں" اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے کلچر سے بچیں، یہ عمل عوام کو دین سے دور اور متنفر کر دیتا ہے۔

11.                  سوشل میڈیا پر کبھی  بھی اکابرین سے علمی اختلاف کو تماشا نہ بنائیں، اس سے عوام کا  علما سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

12.                  دوسروں کا مواد مثلا ویڈیو ، تصویر یا تحریر  استعمال کرتے وقت اخلاقی اور قانونی حدود کا خیال رکھیں اور سرقہ سے بچیں کہ  یہ آپ کی دیانت کی علامت ہے۔

13.                  وقتاً فوقتاً فیس بک یا یوٹیوب پر لائیو آ کر لوگوں کے سوالات کے براہِ راست جواب دیں، اس سے عوام اور علما کے درمیان حائل دوریاں ختم ہوتی ہیں۔

14.                  نتائج کی پروا کیے بغیر مستقل مزاجی سے کام جاری رکھیں، کیونکہ بیج بونا ہمارا کام ہے اور اسے تناور درخت بنانا اللہ کے اختیار میں ہے۔

15.                  سوشل میڈیا کے قوانین اور پالیسیوں سے باخبر رہیں تاکہ کسی ادنی غلطی  کی وجہ سے آپ کا پیج یا اکاؤنٹ بند نہ ہوجائے۔

16.                  سوشل میڈیا پر ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ تنقید اور گستاخانہ کمنٹس پر آپے سے باہر  ہونے کی بجائے صبر اور حکمت سے جواب دیں یا پھر  نظر انداز کر دیں۔

اور آخر میں یہ اچھی طرح یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا پر شہرت، لائکس یا فالوورز کے بجائے صرف رضائے الہی اور اصلاحِ امت کی نیت رکھیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اجمعین